نئی دہلی: آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں اندرونی بغاوت کی خبروں کے درمیان پارٹی کے رکن پارلیمان کلیان بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پارٹی کے اندر اختلافی آوازیں اٹھانے والوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے پاس مرکزی ایجنسیاں ہیں، لیکن ٹی ایم سی کے پاس ’’ماں، ماٹی، مانش‘‘ اور مغربی بنگال کے عوام کی طاقت موجود ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کلیان بنرجی اور کیرتی آزاد نے پارٹی کی جانب سے اپنا موقف پیش کیا۔
’’بی جے پی کے پاس طاقت ہے، ہمارے پاس عوام‘‘
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کلیان بنرجی نے کہا، ’’آپ (بی جے پی) کے پاس وزیر اعلیٰ، ای ڈی، سی بی آئی اور دیگر اختیارات ہیں، لیکن میرے پاس ماں، ماٹی، مانش، میری پارٹی، میرے کارکن اور مغربی بنگال کے عوام ہیں۔‘‘ انہوں نے اشارہ دیا کہ ٹی ایم سی عوامی حمایت کی بنیاد پر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
کیرتی آزاد کا ناراض رہنماؤں پر سخت حملہ
کیرتی آزاد نے پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے 29 ارکان پارلیمان ’’ماں، ماٹی، مانش‘‘ کے نام پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان غداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی شکایت تھی تو انتخابات سے پہلے کیوں نہیں بولے؟ اگر سیاسی اخلاقیات کا دعویٰ کرتے ہیں تو استعفیٰ دیں اور بی جے پی کے ٹکٹ پر دوبارہ انتخاب لڑیں۔‘‘ کیرتی آزاد نے کہا کہ جن لوگوں کو ممتا بنرجی سے مسئلہ ہے، وہ پارٹی چھوڑنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن ٹی ایم سی کا نام استعمال نہ کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2029 تک بی جے پی نہ صرف مغربی بنگال بلکہ مرکز میں بھی کمزور ہو جائے گی۔
بی جے پی اور باغی لیڈروں کے دعوے
اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایک فہرست گردش کر رہی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمان کا ایک الگ گروپ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حمایت کرنے والا ہے۔ تاہم کیرتی آزاد نے اس فہرست کو ’’جھوٹی اور من گھڑت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعدد ارکان پہلے ہی اس کی تردید کر چکے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کے تقریباً 60 اراکین اسمبلی خود کو ’’اصل ٹی ایم سی‘‘ قرار دے رہے ہیں اور وہ ممتا بنرجی اور پارٹی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی قیادت سے ناراض ہیں۔ ادھر پارٹی سے نکالے گئے رہنما اور مغربی بنگال اسمبلی میں نائب قائد حزب اختلاف سندیپن ساہا نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس 58 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد یہی گروپ اسمبلی میں اصل اپوزیشن کے طور پر ابھرے گا۔ تاہم ترنمول کانگریس کی قیادت نے پارٹی میں کسی بڑی ٹوٹ پھوٹ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بی جے پی کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہیں قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
