Bharat Express DD Free Dish

Political Showdown

کیرتی آزاد نے پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے 29 ارکان پارلیمان ’’ماں، ماٹی، مانش‘‘ کے نام پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان غداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی شکایت تھی تو انتخابات سے پہلے کیوں نہیں بولے؟

بی جے پی نے اپنے منشور کو ’سونار بنگلہ‘ کا نام دیتے ہوئے روزگار، خواتین کے لیے ریزرویشن اور فلاحی اسکیموں کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم سی نے اسے کھوکھلے وعدوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 200 سے زائد نشستیں جیت کر برتری حاصل کی تھی۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی طویل عرصے تک اپوزیشن میں رہی، لیکن اس نے کبھی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش نہیں کی۔ امت شاہ نے لوک سبھا میں اپوزیشن کی قرارداد پر دو روزہ بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر ایک غیر جانبدار نگہبان ہوتا ہے جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

قرارداد کے حق میں لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما گورو گوگوئی، منیش تیواری، دیپیندر سنگھ ہڈا اور جوتھیمانی اپنے دلائل پیش کریں گے۔ یہ بحث پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس میں اہم سیاسی موضوع بن گئی ہے اور اس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت بحث متوقع ہے۔

راہل گاندھی کے مطابق’’ٹیکسٹائل صنعت اور کپاس کی کاشت بھارت میں روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی انہی شعبوں سے وابستہ ہے۔ ان شعبوں پر ضرب لگانے کا مطلب لاکھوں خاندانوں کو بے روزگاری اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنا ہے۔ قومی مفاد میں سوچنے والی حکومت ایسا معاہدہ کرتی جو کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتی، لیکن اس کے برعکس ہوا ہے۔‘‘

وزیرداخلہ نے گاندھی نگر میں سی بی ڈی سی پر مبنی پی ڈی ایس کا افتتاح کرتے ہوئے تجارتی معاہدوں پر اپوزیشن کو گمراہ کن بیانات کے لیے ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ اس نے قرض معافی کے وعدوں سے کسانوں کو گمراہ کیا، جبکہ موجودہ حکومت کسانوں کو سالانہ مالی معاونت فراہم کر رہی ہے تاکہ انہیں قرض لینے کی نوبت نہ آئے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائی، ممتا بنرجی کے احتجاجی اعلان اور بی جے پی کے جوابی حملے کے بعد مغربی بنگال میں سیاسی درجۂ حرارت تیزی سے بڑھ گیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔