لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے این ای ای ٹی-یو جی 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی وزیرِتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس رکنِ پارلیمنٹ نے وزیراعظم نریندر مودی کی ’’خاموشی‘‘ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بار بار پیپر لیک ہونے کے باوجود حکومت مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:
’’NEET 2024: پیپر لیک ہوا، امتحان منسوخ نہیں کیا گیا، وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔
NEET 2026: پھر پیپر لیک ہوا، امتحان منسوخ ہوا، لیکن وزیر اب بھی عہدے پر برقرار ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک وزیراعظم سے جواب مانگ رہا ہے کہ آخر امتحانی پرچے بار بار کیوں لیک ہو رہے ہیں اور ناکامیوں کے باوجود وزیرِ تعلیم کو کیوں نہیں ہٹایا جا رہا۔
NEET 2024:
पेपर लीक हुआ। परीक्षा रद्द नहीं हुई। मंत्री ने इस्तीफ़ा नहीं दिया। CBI ने जांच बिठाई। एक कमेटी बनी।NEET 2026:
पेपर लीक हुआ। परीक्षा रद्द हुई। मंत्री ने फिर इस्तीफ़ा नहीं दिया। CBI फिर जाँच कर रही है। एक और कमेटी बनेगी।मोदी जी, देश आपसे कुछ सवाल पूछ रहा है – जवाब…
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) May 17, 2026
سی بی آئی کی جانچ جاری
دریں اثنا سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن، CBI نے اتوار کو این ای ای ٹی-یو جی 2026 پیپر لیک معاملے میں ملزم منیشا گروناتھ منڈھارے کو دہلی کی روز ایونیو عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے 14 دن کی تحویل مانگی۔ منڈھارے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے پینل کا حصہ تھیں اور امتحانی عمل میں ماہر اور مترجم کی حیثیت سے شامل تھیں۔ سی بی آئی کے مطابق این ٹی اے کے پورے امتحانی نظام کی جانچ کی جا رہی ہے۔
کرناٹک یوتھ کانگریس کا احتجاج
اس معاملے پر انڈین یوتھ کانگریس نے بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کرناٹک یوتھ کانگریس 21 مئی کو بنگلورو میں ’’راج بھون چلو‘‘ مارچ نکالے گی، جس میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم نے اس تنازع کے بعد اعلان کیا ہے کہ اگلے سال سے این ای ای ٹی-یو جی امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT) موڈ میں کرایا جائے گا، جبکہ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
