Bharat Express DD Free Dish

Student protest

10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی سخت، 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی دروازے بند کرنے کی تجویز؛ کئی میل اور ایکسپریس ٹرینیں بھی منسوخ

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق مظاہروں کے آغاز سے اب تک 6100 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں زیادہ تر کی عمر 18 سال سے کم ہے۔ وزارت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ 1800 سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا، جن میں 1483 نابالغ شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے دوران کم از کم 215 نوجوان اور 715 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

اساتذہ کی شدید کمی، بدحال اسکولوں اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا، پولیس کے ساتھ جھڑپ، آنسو گیس، آتش زنی اور اسکولوں کو بند کیے جانے کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک شہر کا واقعہ چند ہی وقت میں دوسرے علاقوں کے طلبہ تک پہنچ رہا ہے۔

نروپم نے کہا کہ اگر ملک کو محفوظ رکھنا ہے اور تمام شہریوں کی سلامتی یقینی بنانی ہے تو مذہبی روایت کا مضبوط رہنا بھی ضروری ہے اور اس کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

فگواڑہ کے LPU کیمپس میں 10 روز سے جاری تنازع کے درمیان پولیس کا بڑا انکشاف، مبینہ عصمت دری کی افواہ کے بعد توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور آتش زنی، 9 افراد گرفتار، نامعلوم ملزمان کے خلاف ریپ کی FIR درج کرکے SIT تحقیقات میں مصروف۔

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی کرتے ہوئے سڑک بند کی، پولیس کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، کئی طلبہ کے خلاف مقدمات درج۔

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ہاسٹل کی جانب جانے والے راستے پر یونیورسٹی کی باؤنڈری وال میں موجود گیٹ بند کیے جانے کے بعد طلبہ مشتعل ہو گئے۔ طلبہ نے گیٹ پر دھکا مکی کرتے ہوئے اسے زبردستی کھولنے کی کوشش کی، جس کے دوران ایک گیٹ ٹوٹنے کی بھی اطلاع ہے۔ ہنگامے کی اطلاع ملتے ہی پنجاب پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی کیمپس میں تعینات کر دی گئی۔

بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ کے دوران طالب علم کی موت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔فروری میں دوسرے سال کے ایک طالب علم کی ہاسٹل میں موت ہوئی تھی۔ اس کے بعد جولائی 2026 میں نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے دوران 20 سالہ بی ٹیک دوسرے سال کے طالب علم نے بھی خودکشی کرلی تھی۔

امتحان کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کے بعد طالب علم کی موت ہوگئی۔ تاہم، آئی آئی ٹی بمبئی نے واضح کیا ہے کہ طالب علم کے خلاف کوئی باقاعدہ تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی۔ادارے کے مطابق، شعبے کے سربراہ اور امتحان سے متعلق استاد نے طالب علم سے بات کی تھی اور اسے سمجھایا تھا کہ اس واقعے سے اس کے تعلیمی مستقبل پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے بعد طالب علم اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا، جہاں بعد میں وہ مردہ پایا گیا۔

احتجاج میں شامل طالبہ خدیجہ جاہوا نے بتایا کہ جمعرات کو یونیورسٹی انتظامیہ نے مطالبات مان لیے تھے، لیکن اگلے دن صبح نہ تو ناشتہ فراہم کیا گیا اور نہ ہی دوپہر کے وقت کھانا دیا گیا۔ایک دیگر طالبہ نے کہا کہ 2023 میں بھی اسی وینڈر کے خلاف ناقص معیار کا کھانا فراہم کرنے کو لے کر احتجاج کیا گیا تھا۔