فرانس میں ہائی اسکول کے طلبہ کا غصہ اب سڑکوں پر نظر آ رہا ہے۔ کئی شہروں میں اسکولوں کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں، کچرے کے ڈبوں میں آگ لگائی جا رہی ہے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ بعض مقامات پر پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ پیر سے اب تک 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ صرف جمعہ کو تقریباً 1,747 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اسی روز تقریباً 735 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے، جبکہ جمعرات کو ایک ہزار سے زیادہ ہائی اسکول احتجاج کی زد میں تھے۔ چند ہی دنوں میں مقامی سطح کا احتجاج قومی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے۔ طلبہ تنظیموں نے 6 اکتوبر کو ملک گیر مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔
اساتذہ کی کمی سب سے بڑی وجہ بنی
طلبہ کی ناراضی کسی ایک واقعے تک محدود نہیں، بلکہ طویل عرصے سے جاری تعلیمی نظام کی مشکلات سے جڑی ہوئی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اساتذہ کی کمی ہے۔ کئی اسکولوں میں اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں اور کسی استاد کے طویل عرصے تک غیر حاضر رہنے کی صورت میں اس کی جگہ دوسرا استاد دستیاب نہیں ہو پاتا۔ نتیجتاً ضروری مضامین کی کلاسیں بھی منسوخ کرنا پڑ رہی ہیں اور طلبہ کی تعلیم براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔
کئی اسکولوں میں ایک کلاس میں 30 سے 35 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کہیں پانی کی قلت ہے تو کہیں شدید گرمی اور خستہ حال عمارتوں کی شکایات ہیں۔ طلبہ کو طویل اور دباؤ سے بھرے تعلیمی اوقات سے بھی پریشانی ہے۔ بعض اسکولوں میں دن صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہتا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
17 ستمبر کو کریتے سے شروع ہوئی تحریک
اس تحریک کا آغاز 17 ستمبر کو پیرس کے قریب کریتے کے انٹونی ڈی سینٹ ایگزوپیری ہائی اسکول سے ہوا۔ وہاں اساتذہ کم اسٹاف اور وسائل کی کمی کے خلاف ہڑتال پر تھے اور طلبہ بھی ان کی حمایت میں آ گئے۔ بعد میں انتظامیہ نے اسکول میں ڈپٹی پرنسپل، دیگر عملے اور نرس کی تعیناتی پر رضامندی ظاہر کی۔ پڑھائی دوبارہ شروع ہو گئی، لیکن مقامی سطح پر مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج دوسرے شہروں تک پھیلتا گیا۔
پیرس کے آس پاس کے غریب علاقوں، خاص طور پر سین-سینٹ-ڈینس، میں طلبہ کی شکایت ہے کہ انہیں دارالحکومت کے بہتر اسکولوں جیسی سہولیات نہیں ملتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس علاقے کے کئی اسکولوں میں اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں۔ نرس اور سوشل ورکر جیسی ضروری خدمات کی کمی بھی برقرار ہے۔
سوشل میڈیا نے احتجاج کو دی رفتار
ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ نے احتجاج کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ طلبہ ان پلیٹ فارمز پر مظاہروں سے متعلق معلومات شیئر کر رہے ہیں۔ پولیس کے ساتھ جھڑپ، آنسو گیس، آتش زنی اور اسکولوں کو بند کیے جانے کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک شہر کا واقعہ چند ہی وقت میں دوسرے علاقوں کے طلبہ تک پہنچ رہا ہے۔
صدارتی انتخابات سے چند ماہ قبل یہ تحریک حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن گئی ہے۔ حکومت اور دائیں بازو کے لیڈروں نے بائیں بازو کی پارٹی ’لا فرانس انسومیژ‘ یعنی LFI پر تحریک کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کے لیڈر ژاں لوک میلوںشوں نے طلبہ کی حمایت کی، تاہم انہوں نے پُرامن احتجاج کی اپیل بھی کی ہے۔
پولیس کارروائی پر دونوں فریقوں کے الگ الگ دعوے
پولیس کا الزام ہے کہ مظاہرین نے اہلکاروں پر اشیا پھینکیں، آتش زنی کی اور اسکولوں کو بند کرایا۔ مظاہرین نے اس کے جواب میں پولیس پر آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور لاٹھیوں کے استعمال کا الزام لگایا۔ ہفتے تک پولیس نے 600 سے زیادہ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بات کہی۔ وزیر تعلیم کے مطابق 65 تعلیمی ملازمین زخمی ہوئے، جن میں 40 اسکول سربراہ شامل ہیں۔ 16 سالہ ایک طالب علم کی آنکھ میں شدید چوٹ لگنے کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے۔
پیرس پولیس سربراہ پیٹریس فور نے کہا ہے کہ تحریک اب ان لوگوں کے کنٹرول میں نہیں ہے جنہوں نے اسے شروع کیا تھا۔ انہوں نے طلبہ اور والدین سے پُرامن احتجاج کی اپیل کی۔ سکیورٹی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ 6 اکتوبر کے ملک گیر مظاہرے میں شدت پسند گروہ تشدد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
تعلیمی بحران کی جڑیں پرانی ہیں
فرانس میں اسکولوں کی فنڈنگ اور تعلیم میں عدم مساوات کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ 1990 کی دہائی میں ہائی اسکول کے طلبہ کی بڑی تحریک کے بعد تعلیم کے لیے فنڈنگ میں اضافہ کیا گیا تھا۔ بعد کے برسوں میں فی طالب علم اخراجات تقریباً مستحکم رہے۔ وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق ثانوی سطح کے ایک طالب علم پر 2024 میں تقریباً 11,660 یورو خرچ ہوئے، جبکہ 2010 میں یہ رقم تقریباً 11,910 یورو تھی۔ 2026 میں ملک بھر میں 3,256 اساتذہ کی آسامیوں میں کٹوتی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
2027 کے بجٹ کی تجویز میں تعلیم کے اخراجات 1.7 فیصد بڑھا کر 65.53 ارب یورو کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ طلبہ کی تعداد کم ہو رہی ہے، اس لیے بجٹ میں اس سے زیادہ اضافہ ضروری نہیں ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اسکولوں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ رقم کافی نہیں ہے۔
اب حکومت کے سامنے سب سے بڑا سوال
یہ تحریک اب صرف چند اسکولوں کی شکایت نہیں رہ گئی ہے۔ اس کے مرکز میں سوال یہ ہے کہ کیا فرانس کا تعلیمی نظام تمام طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کر رہا ہے۔ حکومت کے سامنے چیلنج صرف احتجاج روکنے کا نہیں، بلکہ اساتذہ کی کمی، خستہ حال اسکولوں، علاقائی عدم مساوات اور تعلیم پر اخراجات جیسے مسائل کا حل تلاش کرنے کا بھی ہے۔ اب سب کی نظریں 6 اکتوبر کے مظاہرے اور اس کے بعد حکومت کے ٹھوس اقدامات پر ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


