Bharat Express DD Free Dish

France

فرانس میں ہفتے کے روز ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے ہونے والے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ملک میں تشدد اور لوٹ مار کے واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔حکومت کی کوشش ہے کہ اس بار مظاہروں کے دوران تشدد اور فسادات جیسی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

فرانس میں احتجاج اورفسادات کے معاملے پر صدر ایمینوئل میکرون نے اعتراف کیا ہے کہ حالات سے نمٹنے کی تیاری اور انٹیلی جنس کے شعبے میں خامیاں رہ گئی تھیں۔ تاہم، انہوں نے وزیر داخلہ لوراں نونیز کے استعفے کے امکان کومسترد کردیا۔ رپورٹ کے مطابق، وزیرداخلہ لوراں نونیزنے بھی پر تشدد مظاہروں کے دوران پولیس کے حالات پرقابوکھو دینے کی بات تسلیم کی تھی۔

فرانس اور اسپین میں ہونے والی تحریکوں سے متاثر ہوکر ان دنوں اٹلی میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام مظاہروں کا مشترکہ مقصد وزیر اعظم جارجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت کی مخالفت کرنا ہے۔

صدر زیلنسکی نے ایمانوئل میکرون کے ساتھ بات چیت کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت کا حل تلاش کرنے کے لیے فرانس اپنی جانب سے پوری کوشش کر رہا ہے، جس کی ہم قدر کرتے ہیں۔زیلنسکی نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’ہماری ملاقات کے دوران ہی روس نے لوتسک میں یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایک اور ڈرون حملہ کیا۔ اس حملے کے باعث شہر میں بجلی کی فراہمی بند ہو گئی۔

اساتذہ کی شدید کمی، بدحال اسکولوں اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا، پولیس کے ساتھ جھڑپ، آنسو گیس، آتش زنی اور اسکولوں کو بند کیے جانے کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک شہر کا واقعہ چند ہی وقت میں دوسرے علاقوں کے طلبہ تک پہنچ رہا ہے۔

فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ کی کارکردگی میں کمی، ڈیجیٹل دور میں تعلیمی نظام کے سامنے نئے سوالات

سیوٹا کے مقامی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 60 ہزار مہاجرین خشکی اور سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر سیوٹا میں داخل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق علاقے تک تیر کر پہنچنے کی کوشش کے دوران 57 مہاجرین ہلاک ہو گئے۔

اسپین اب عالمی اعزاز کے لیے فائنل میں ارجنٹینا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے سیمی فائنل کے فاتح کا سامنا کرے گا، جبکہ فرانس تیسری پوزیشن کے لیے ایک بار پھراپنی قسمت آزمائے گا۔

شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک کے بعد ایک دھماکے ہوئے ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون اس وقت دمشق میں ہی ہیں۔ فرانسیسی صدارتی دفتر نے بتایا کہ صدرمیکرون مکمل طور پر محفوظ ہیں اور انہوں نے دھماکوں کی آواز بھی نہیں سنی۔ دھماکوں کے باوجود انہوں نے شام کے صدراحمد الشرع سے طے شدہ ملاقات بھی کی۔

فرانس کے شہرٹامبلین میں ایک بڑا طیارہ حادثہ پیش آیا، جہاں پیراشوٹ ٹریننگ اسکول کا طیارہ گرنے سے 11 افراد ہلاک ہوگئے۔ سعودی عرب کے رات تنورا میں ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے سے کم ازکم 14 افراد کی موت ہوگئی۔ دونوں حادثوں میں مجموعی طور پر 25 افراد ہلاک ہوگئے۔