Bharat Express DD Free Dish

France

ریاستہائے متحدہ میں داخل ہونے والے ہندوستانی سامان پر 50 فیصد کا بھاری ٹیرف، جو 27 اگست سے نافذ ہوا ہے، 48 بلین ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔ جن شعبوں پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ اعلیٰ درآمدی محصولات کا نقصان ہو گا ان میں ٹیکسٹائل/کپڑے، جواہرات اور زیورات، جھینگا، چمڑے اور جوتے، جانوروں کی مصنوعات، کیمیکلز، اور الیکٹریکل اور مکینیکل مشینری شامل ہیں۔

فرانس کے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ فرانس جمعہ سے غزہ کے لیے 40 ٹن امداد ہوائی جہاز سے گرائے گا۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دنوں تک حملے جاری رہے جس سے دونوں ممالک کے انفراسٹرکچر کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا تو امریکہ زیادہ سوچے سمجھے بغیر دوبارہ ایران پر بمباری کرے گا۔

غزہ جنگ کے بعد اسپین، ناروے، آئرلینڈ اور سلووینیا نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے میکرون کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دو ملکی حل ہی واحد راستہ ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت مستقبل میں انجن برآمد کرنے کے قابل بھی ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی اس سے ہندوستان-فرانس دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

حماس کے ایک سینئر عہدیدار کہا کہ یہ فلسطینی تحریک اب اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات میں مزید کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

فرانس میں اس سے قبل کئی بار اسلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی کوشش توہین آمیز خاکے شائع کر کے کی جا چکی ہے۔ تاہم اب مسجد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور نمازیوں کا خون بہایا گیا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ ان کی سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کی حمایت کرتی رہی ہیں، جیسا کہ حال ہی میں میکرون نے کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس جون میں ہونے والے بین الاقوامی سربراہی اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتا ہے۔

دفاعی برآمدات مالی سال 2013-14 میں  686 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2023-24 میں روپے  21,083 کروڑ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ 10 سالوں کے دوران 30 گنا اضافہ کی نشاندہی کرتی ہے۔

’’عرب منصوبے‘‘ کے تحت اسرائیل اورحماس کے درمیان غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ پرحکومت کے لیے آزاد اور پیشہ ور فلسطینی ٹیکنوکریٹس پرمبنی ایک انتظامی کمیٹی کے قیام کی تجویزپیش کی گئی ہے۔