Ranchi Student Protest: رانچی میں طلبہ تحریک کے دوران ہنگامہ، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا پر پھینکی گئی سیاہی
واقعے کے فوراً بعد نیہا بورا نے سوشل میڈیا پر سیاہی سے داغ دار اپنی تصویر شیئر کی اور کہا کہ وہ اس سیاہی کو فخر کے ساتھ قبول کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی پولیس کی لاٹھی چارج اور دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کا سامنا کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی حرکتوں سے نہ تو ان کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔
Supreme Court: دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے مقام پر سپریم کورٹ سخت، جنتر منتر کے متبادل مقام پر مرکز سے جواب طلب
سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ اگر جنتر منتر موجودہ حالات میں مناسب مقام نہیں تو کیا دہلی میں کسی دوسری جگہ کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا تحفظ ہو اور دوسری جانب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے،
JPSC Exam Irregularities: جھارکھنڈ میں مبینہ JPSC امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے احتجاج کو سی جے پی کی حمایت، مظاہرین کا حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ
رانچی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’میں نے جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات کی ہے۔ سی جے پی جھارکھنڈ کے تمام طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔‘‘
Kangana Ranaut speaks on Gen Z again: کنگنا رناوت کا Gen-Z پر ایک اور بیان، کہا: آزادی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی ہونی چاہیے
کنگنا رناوت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ پہلے ہی Gen-Z کے بارے میں اپنے سابقہ تبصرے کی وجہ سے تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے نئی نسل کو "گٹر جنریشن" قرار دیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔درحقیقت یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب کنگنا نے سوشل میڈیا پر نئی نسل اور بعض بھارتی خواتین کے بارے میں سخت تبصرے کیے تھے۔
CJP protest at Delhi’s Jantar Mantar: میں بہت شرمندہ ہوں…وزیر اعظم مودی کو نازیبا الفاظ کہنے والی 15 سالہ لڑکی نے عوامی معافی
معافی کی ویڈیو سامنے آنے سے قبل رُچیکا کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پولیس حکام کو تحریری معافی نامہ دے چکی ہیں اور اس واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔ اسی معاملے میں اس سیلون کے مالک کا بیان بھی سامنے آیا، جہاں رُچیکا نے کچھ عرصہ کام سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ سیلون مالک کے مطابق وہ صرف چند دن ہی وہاں آئیں، بعد میں آنا بند کر دیا اور بار بار کہنے کے باوجود اپنا آدھار کارڈ بھی جمع نہیں کرایا۔
Nishu viral video update: اس ملک میں گالی دینا کب سے جرم بن گیا؟ طلبہ کے خلاف ایف آئی آر پر سی جے پی کے سوربھ داس برہم
سوربھ داس نے اپنی تنقید کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں موجود کئی ارکانِ پارلیمنٹ کے خلاف سنگین فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان کے مطابق قتل، عصمت دری اور ڈکیتی جیسے مقدمات کا سامنا کرنے والے عوامی نمائندے بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں، لیکن ان کے خلاف اس شدت سے کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ چند نازیبا الفاظ بولنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کے معاملے میں پولیس مختلف ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے
’’مظاہرین پر پیلیٹ گن چلی، وزیر داخلہ نے حکم دیا یا انہیں معلوم نہیں، بی جے پی-آرایس ایس سے معافی نہیں مانگوں گا‘‘، راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کرکے لگایا بڑا الزام
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر حملہ بولا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آج مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔ دہلی میں طلبا پرپیلیٹ گن چلائی گئی، اس کے لئے وزارت داخلہ ذمہ دارہے۔
Kangana Ranaut’s ‘Gutter’ Remark Sparks Uproar: کنگنا رناوت کےگٹر جنریشن بیان پر ہنگامہ برپا، کانگریس اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید
کنگنا کے اس بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات کو اب سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان اور طرزِ بیان میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر وارث پٹھان نے بھی کنگنا رناوت سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔
Bihar Student Protest Cases: بہار حکومت کا طلبہ تحریک سے متعلق مقدمات واپس لینے کا فیصلہ، آر جے ڈی نے اپوزیشن کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا
بہار حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹ/یو جی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف ریاست بھر میں طلبہ کا احتجاج چل رہا تھا اور امتحانی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔
Jantar Mantar Violence: دہلی پولیس کا جنترمنتر احتجاجی مقامات پر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے 2,873 افراد کی شناخت کا دعویٰ
اس سے قبل دہلی پولیس نے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف قابلِ اعتراض اور توہین آمیز تبصروں پر مشتمل پوسٹ اور ویڈیوز ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ یہ مواد جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج اور 20 جولائی کو ’سنسد چلو‘ مارچ سے منسلک تشدد کے دوران اپ لوڈ کیا گیا تھا۔





