Bharat Express DD Free Dish

Student protest

سوربھ داس نے اپنی تنقید کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں موجود کئی ارکانِ پارلیمنٹ کے خلاف سنگین فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان کے مطابق قتل، عصمت دری اور ڈکیتی جیسے مقدمات کا سامنا کرنے والے عوامی نمائندے بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں، لیکن ان کے خلاف اس شدت سے کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ چند نازیبا الفاظ بولنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کے معاملے میں پولیس مختلف ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے

 لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر حملہ بولا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آج مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔ دہلی میں طلبا پرپیلیٹ گن چلائی گئی، اس کے لئے وزارت داخلہ ذمہ دارہے۔

کنگنا کے اس بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات کو اب سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان اور طرزِ بیان میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر وارث پٹھان نے بھی کنگنا رناوت سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔

بہار حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹ/یو جی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف ریاست بھر میں طلبہ کا احتجاج چل رہا تھا اور امتحانی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔

اس سے قبل دہلی پولیس نے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف قابلِ اعتراض اور توہین آمیز تبصروں پر مشتمل پوسٹ اور ویڈیوز ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ یہ مواد جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج اور 20 جولائی کو ’سنسد چلو‘ مارچ سے منسلک تشدد کے دوران اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

دہلی کے بعد اب بہار طلبہ تحریک کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ سیوان میں مبینہ اے کے-47 فائرنگ اور طلبہ کی گرفتاریوں کے سلسلے میں شدید سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔

سماجوادی پارٹی سربراہ نے حکومت سے پوچھا، طلبہ کے کون سے مطالبات تسلیم کیے گئے؟ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمات کیوں درج کیے جا رہے ہیں؟ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اتنی بڑی تحریک حکومت کی کوششوں سے ختم ہوئی یا حکومت نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کرکے پسپائی اختیار کی؟

راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو سننے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے انہیں طاقت کے زور پر خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد بہار میں طلبہ کے احتجاج اور حکومت کے رویے پر سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

  انہوں نے مزید کہا کہ "ڈی پی کے پی اے"، جو ان کی والدہ کو یہ پوسٹ ہٹانے کے لیے پیغامات بھیج رہے ہیں، انہیں وہ یقین دلانا چاہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ "ڈی پی" سے ان کی مراد دھرمیندر پردھان ہیں۔ اپنی اسٹوری کے اختتام پر انہوں نے لکھا، "فکر نہ کریں، یہ پوسٹ ڈیلیٹ نہیں ہوگی۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے طلبا کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ پارٹی پنجاب میں امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے معاملے کا جائزہ لے گی اور جلد اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔