Bharat Express DD Free Dish

Student protest

دہلی کے بعد اب بہار طلبہ تحریک کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ سیوان میں مبینہ اے کے-47 فائرنگ اور طلبہ کی گرفتاریوں کے سلسلے میں شدید سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔

سماجوادی پارٹی سربراہ نے حکومت سے پوچھا، طلبہ کے کون سے مطالبات تسلیم کیے گئے؟ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمات کیوں درج کیے جا رہے ہیں؟ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اتنی بڑی تحریک حکومت کی کوششوں سے ختم ہوئی یا حکومت نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کرکے پسپائی اختیار کی؟

راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو سننے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے انہیں طاقت کے زور پر خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد بہار میں طلبہ کے احتجاج اور حکومت کے رویے پر سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

  انہوں نے مزید کہا کہ "ڈی پی کے پی اے"، جو ان کی والدہ کو یہ پوسٹ ہٹانے کے لیے پیغامات بھیج رہے ہیں، انہیں وہ یقین دلانا چاہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ "ڈی پی" سے ان کی مراد دھرمیندر پردھان ہیں۔ اپنی اسٹوری کے اختتام پر انہوں نے لکھا، "فکر نہ کریں، یہ پوسٹ ڈیلیٹ نہیں ہوگی۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے طلبا کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ پارٹی پنجاب میں امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے معاملے کا جائزہ لے گی اور جلد اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔

طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر راہل گاندھی نے وزیرداخلہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد لاٹھی چارج  پیلیٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کی اجازت آپ نے دی تھی یا نہیں۔ پولیس کی کارروائی میں 19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

سوربھ داس کے مطابق ویڈیوز اور تصاویر میں ایسے کئی پولیس اہلکار اور آر اے ایف کے جوان نظر آئے ہیں جو مظاہرین کے سروں پر لاٹھیاں مارتے اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اہلکاروں کے خلاف جلد قانونی عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کارروائی میں متعدد طلبہ کے سر اور ہاتھ شدید زخمی ہوئے تھے۔

پارٹی نے اپنے تمام کارکنوں، حامیوں، طلبہ تنظیموں، والدین، اساتذہ اور سماجی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شام 6 بجے اپنے اپنے شہروں میں کینڈل مارچ میں شریک ہو کر احتجاجی تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ سی جے پی کے مطابق ملک بھر میں مختلف مقامات پر اس مارچ کی تیاریاں جاری ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی امید کی جا رہی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ "دھرمیندر پردھان اب صرف ایک وزیر نہیں رہے بلکہ وہ تعلیمی نظام میں بدعنوانی اور طلبہ کے مستقبل کو پہنچنے والے نقصان کی علامت بن چکے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے نوجوان اور طلبہ ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں انہی کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے طلبہ کے دیگر دو مطالبات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بھی کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔

طالبہ نے کہا کہ بار بار پیپر لیک اور امتحانات سے متعلق تنازعات نے نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ویڈیو میں وہ کہتی ہے، "اب کیریئر بنتا نظر نہیں آتا، اس لیے شادی ہی کر لو، لڑکیوں سے یہی کہا جا رہا ہے۔"اس کے مطابق جب سخت محنت کے باوجود امتحانات متنازع ہو جائیں اور بھرتی کے عمل متاثر ہوں تو نوجوانوں کا نظام پر اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔