Bharat Express DD Free Dish

Student protest

وانگچک نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ طویل مذاکرات، متعدد شرائط پر اتفاق اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی ایک ویڈیو جاری کرکے ان تمام شرائط اور حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں، ہوشیار رہیں اور کسی بھی صورت میں تشدد یا قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔

نیشنل فیڈریشن آف یوتھ موومنٹس کے چیئرمین مسیح الزماں انصاری نے کہا کہ پرامن احتجاج کا حق ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے اور آئین اس کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی طرح صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ، ڈاکٹروں کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے اور والدین و اساتذہ کو تشدد یا دھمکی کے خوف کے بغیر طلبہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا  حق بھی کافی اہم ہے۔

عالیہ بھٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک نوٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’گزشتہ چند دنوں نے کئی مرتبہ میرا دل توڑا اور پھر امید کے ساتھ اسے جوڑا۔ ہر طالب علم کے پیچھے ایک خواب، خاندان کی امید، برسوں کی محنت اور قربانی کی ایک کہانی چھپی ہوتی ہے۔ طلبہ صرف اپنے لیے آواز نہیں اٹھا رہے، بلکہ وہ ان لوگوں کی امیدوں کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں جنہوں نے ان کا ساتھ دیا ہے۔‘‘

مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا حکم دینے والے اور اسے نافذ کرنے والے، دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

سی جے پی کے احتجاج اور پولیس کارروائی کو لے کر سیاسی اور قانونی سطح پر بحث جاری ہے۔ یاد رہے کہ 15 مئی کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کچھ بے روزگار نوجوان کاکروچ کی طرح ہوتے ہیں، جو بعد میں میڈیا، سوشل میڈیا یا آر ٹی آئی کارکن بن کر نظام پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی، شرد پوار اور سپریا سولے کی مسکراتی ہوئی تصاویر سامنے آنے کے بعد سیاسی قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندی (پریسیمن) بل پر حکومت کو این سی پی (ایس پی) کے آٹھ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہو سکتی ہے،

سکیورٹی اقدامات کے باعث ان علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ بڑھنے اور مسافروں کی بھیڑ جمع ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈی ایم آر سی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے میٹرو کی تازہ معلومات ضرور حاصل کریں اور اپنے سفر کی منصوبہ بندی اسی کے مطابق کریں۔

کنگنا رناوت نے راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفے کے مطالبے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی دنیا کے مقبول ترین لیڈروں  میں شمار ہوتے ہیں، ایسے میں آخر وہ استعفیٰ کیوں دیں۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ تقریباً 1.4 لاکھ کروڑ روپے ہے، لیکن حکومت بڑے صنعت کاروں کے لاکھوں کروڑ روپے کے قرض معاف کر دیتی ہے، جبکہ طلبہ کو انصاف نہیں ملتا۔ ان کے مطابق بار بار امتحانات کے پرچے لیک ہو رہے ہیں، اس لیے نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج غیر جمہوری نہیں بلکہ طلبہ اور اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے،