Bharat Express DD Free Dish

Student protest

موہن بھاگوت نے کہا کہ وقت اور حالات بدل سکتے ہیں، لیکن مادریت کی بنیادی اقدار کبھی تبدیل نہیں ہوتیں۔ محبت، قربانی، ہمدردی اور اچھے اخلاق ہی مادریت کی اصل بنیاد ہیں، جو ہر دور میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور بہتر کردار کی تشکیل بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

ادھر جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے مختلف مقامات پر بیریکیڈ نصب کیے ہیں، جنہیں موٹی زنجیروں سے باندھنے کے ساتھ ویلڈ بھی کیا گیا ہے تاکہ انہیں ہٹایا یا منتقل نہ کیا جا سکے۔ڈی ایم آر سی نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر سے قبل متبادل راستوں کی معلومات حاصل کریں اور منزل تک پہنچنے کے لیے اضافی وقت لے کر روانہ ہوں،

ٹرولرز کو سخت جواب دیتے ہوئے سونم وانگچک نے کہا، "اگر مجھے کوئی سودا ہی کرنا ہوتا تو کیا میں 26 دن تک بھوکا رہتا؟ جو لوگ سمجھوتے کرتے ہیں، وہ اس طرح سڑکوں پر بیٹھ کر نہیں کرتے بلکہ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔ افسوس ایسے معاشرے پر جہاں اس قسم کی سوچ پروان چڑھے اور ایسے گھٹیا خیالات جنم لیں۔"کر دیا تھا۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا، "گزشتہ رات آپ سب سے رابطہ کرنے کا موقع ملا۔ میں نے جو ویڈیو شیئر کیا تھا، اس پر آپ نے جس طرح مثبت تجاویز اور محبت کا اظہار کیا، اس کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی محبت اور اعتماد آئندہ بھی اسی طرح برقرار رہے گی اور ہمارا یہ رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔"

ادھو ٹھاکرے نے کہا اس ہجوم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں انہیں یہاں کوئی جان پہچان والا نظر نہیں آرہا اور یہی بات اہم ہے کہ ہم سب ہندوستانی ہیں، ہم سب ہندوستان کے باشندے ہیں۔ جو لوگ اب تک خوف پیدا کرکے اور ہمیں اپنی شناخت بھلا کر حکومت کرتے رہے ان کے لیے یہ منظر دیکھنے کے قابل ہے۔

اس اہم پیش رفت کے دوران کل سماجی کارکن سونم وانگچک نے نیٹ امتحان کے معاملے اور ملک کے مسابقتی امتحانی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مرکزی حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ وانگچک نے مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں میدانتا اسپتال میں اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی۔

20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے کئی ہفتوں تک جاری احتجاج اور جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کے بعد پارلیمنٹ مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مارچ میں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی تھی۔ مظاہرین مبینہ امتحانی پرچوں کے لیک اور امتحانی نظام میں وسیع تر اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وزیر اعظم مودی  کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ساتھ مثبت مذاکرات کے بعد سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔سونم وانگچک کی صحت سے متعلق پیغام کے ساتھ وزیر اعظم مودی نے ملک کے طلبہ، نوجوانوں اور والدین کے نام ایک خصوصی ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔

سنجے سنگھ نے مزید دعویٰ کیا کہ سی بی آئی نے خود عدالت میں کہا ہے کہ پیپر لیک کیس میں گرفتار سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 کے پیپر لیک معاملے میں بھی سی بی آئی نے 90 دن تک چارج شیٹ داخل نہیں کی، جس کی وجہ سے تمام ملزمان کو فائدہ ملا اور وہ رہا ہو گئے۔دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے پیپر لیک سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کر دی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ تھی کہ طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع نہ ہونے پائے، اسی لیے کم سے کم وقت میں دوبارہ امتحانات کا انعقاد کرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اپنی پوری صلاحیت استعمال کرتے ہوئے تقریباً 22 لاکھ طلبہ کے امتحانات کا کامیاب انعقاد کیا، جس کے نتائج بھی حال ہی میں جاری کر دیے گئے ہیں۔