Bharat Express DD Free Dish

Student protest

اس اہم پیش رفت کے دوران کل سماجی کارکن سونم وانگچک نے نیٹ امتحان کے معاملے اور ملک کے مسابقتی امتحانی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مرکزی حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ وانگچک نے مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں میدانتا اسپتال میں اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی۔

20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے کئی ہفتوں تک جاری احتجاج اور جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کے بعد پارلیمنٹ مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مارچ میں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی تھی۔ مظاہرین مبینہ امتحانی پرچوں کے لیک اور امتحانی نظام میں وسیع تر اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وزیر اعظم مودی  کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ساتھ مثبت مذاکرات کے بعد سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔سونم وانگچک کی صحت سے متعلق پیغام کے ساتھ وزیر اعظم مودی نے ملک کے طلبہ، نوجوانوں اور والدین کے نام ایک خصوصی ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔

سنجے سنگھ نے مزید دعویٰ کیا کہ سی بی آئی نے خود عدالت میں کہا ہے کہ پیپر لیک کیس میں گرفتار سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 کے پیپر لیک معاملے میں بھی سی بی آئی نے 90 دن تک چارج شیٹ داخل نہیں کی، جس کی وجہ سے تمام ملزمان کو فائدہ ملا اور وہ رہا ہو گئے۔دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے پیپر لیک سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کر دی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ تھی کہ طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع نہ ہونے پائے، اسی لیے کم سے کم وقت میں دوبارہ امتحانات کا انعقاد کرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اپنی پوری صلاحیت استعمال کرتے ہوئے تقریباً 22 لاکھ طلبہ کے امتحانات کا کامیاب انعقاد کیا، جس کے نتائج بھی حال ہی میں جاری کر دیے گئے ہیں۔

وانگچک نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ طویل مذاکرات، متعدد شرائط پر اتفاق اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی ایک ویڈیو جاری کرکے ان تمام شرائط اور حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں، ہوشیار رہیں اور کسی بھی صورت میں تشدد یا قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔

نیشنل فیڈریشن آف یوتھ موومنٹس کے چیئرمین مسیح الزماں انصاری نے کہا کہ پرامن احتجاج کا حق ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے اور آئین اس کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی طرح صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ، ڈاکٹروں کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے اور والدین و اساتذہ کو تشدد یا دھمکی کے خوف کے بغیر طلبہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا  حق بھی کافی اہم ہے۔

عالیہ بھٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک نوٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’گزشتہ چند دنوں نے کئی مرتبہ میرا دل توڑا اور پھر امید کے ساتھ اسے جوڑا۔ ہر طالب علم کے پیچھے ایک خواب، خاندان کی امید، برسوں کی محنت اور قربانی کی ایک کہانی چھپی ہوتی ہے۔ طلبہ صرف اپنے لیے آواز نہیں اٹھا رہے، بلکہ وہ ان لوگوں کی امیدوں کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں جنہوں نے ان کا ساتھ دیا ہے۔‘‘

مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا حکم دینے والے اور اسے نافذ کرنے والے، دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔