Bharat Express DD Free Dish

We have Tricolour, You have Lathis: ’’خوف کی سیاست کرنے والے دیکھ لیں، ہمارے ہاتھ میں ترنگا ہے، آپ کے ہاتھ میں لاٹھیاں‘‘ ادھو ٹھاکرے نے دہلی پولیس کو دکھایا آئینہ

ادھو ٹھاکرے نے کہا اس ہجوم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں انہیں یہاں کوئی جان پہچان والا نظر نہیں آرہا اور یہی بات اہم ہے کہ ہم سب ہندوستانی ہیں، ہم سب ہندوستان کے باشندے ہیں۔ جو لوگ اب تک خوف پیدا کرکے اور ہمیں اپنی شناخت بھلا کر حکومت کرتے رہے ان کے لیے یہ منظر دیکھنے کے قابل ہے۔

ممبئی: شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جمعہ کو ممبئی کے دادر میں طلبا کے حق میں ترنگا ریلی کی قیادت کی۔ یہ طلبا NEET-UG پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے مرکز پر پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔ قومی پرچم ہاتھوں میں لیے بڑی تعداد میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ یہ ریلی عوام کی اجتماعی آواز کی عکاسی کرتی ہے اور حکومت کو طلبا کے احتجاج کو دبانے کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے کہا ’’اس ہجوم کی ایک خاص بات ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں یہاں کوئی جان پہچان والا نظر نہیں آرہا اور یہی بات اہم ہے کہ ہم سب ہندوستانی ہیں، ہم سب ہندوستان کے باشندے ہیں۔ جو لوگ اب تک خوف پیدا کرکے اور ہمیں اپنی شناخت بھلا کر حکومت کرتے رہے ان کے لیے یہ منظر دیکھنے کے قابل ہے۔‘‘

دہلی میں طلبا پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا حوالہ

دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا ’’جس طرح دہلی میں طلبا پر بے دریغ لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا… میں حکومت کو خبردار کر رہا ہوں: آپ کے ہاتھ میں بندوقیں ہو سکتی ہیں، آپ کے ہاتھ میں لاٹھیاں ہو سکتی ہیں، لیکن ہمارے ہاتھ میں یہ ترنگا ہے اور آج تک کسی میں اس ترنگے سے لڑنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ آؤ، اپنی لاٹھیاں لاؤ، اپنی بندوقیں لاؤ، ہم ترنگا لے کر تمہارے سامنے کھڑے ہیں۔ دیکھتے ہیں جیت ترنگے کی ہوتی ہے یا تمہاری لاٹھیوں اور بندوقوں کی۔‘‘ یہ ’ترنگا ریلی‘ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے کی جانب سے NEET-UG پیپر لیک تنازع اور احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے ایک روز بعد نکالی گئی۔

ادھو اور راج ٹھاکرے نے مرکز پر اٹھائے سوالات

جمعرات کو مشترکہ پریس کانفرنس میں راج ٹھاکرے نے موجودہ معاملے کا موازنہ 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد کی صورتحال سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں بھی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔ راج ٹھاکرے نے کہا تھا ’’آج طلبا پر جس طرح کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے، وہ بہت زیادہ ہے۔ 26/11 حملوں کے بعد وزیر داخلہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ آج طلبا بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیرتعلیم کو ہٹایا جائے۔‘‘ ادھو ٹھاکرے نے بھی کہا تھا کہ یہ معاملہ صرف ایک امتحان تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا ’’یہ مسئلہ صرف NEET امتحان تک محدود نہیں ہے۔ میں طلبا سے بھی ملا ہوں، انہیں مارا پیٹا گیا، ان کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس اہلکاروں کا روپ دھارے نامعلوم افراد نے مظاہرین پر حملہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ احتجاج غیر سیاسی رہے گا اور تحریک کے دوران صرف قومی پرچم لہرایا جائے گا۔

CJP نے حکومت کے سامنے چار اہم مطالبات رکھے

دریں اثنا، طلبہ کی تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے کہا ہے کہ اس نے جمعہ کو مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ بات چیت کے دوران مرکزی حکومت کے سامنے چار اہم مطالبات رکھے ہیں۔ CJP کے چیف ترجمان سورو داس نے کہا کہ پارٹی کا بنیادی مطالبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ یا انہیں عہدے سے ہٹانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے، پرامن مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے اور مظاہرین کے خلاف نئے مقدمات درج نہ کیے جانے کی تحریری یقین دہانی کے مطالبات پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ CJP کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے بھی کہا کہ مرکز نے طلبہ کو معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات پر ’’اصولی طور پر اہم اتفاق‘‘ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے دور کی بات چیت کے بعد تحریری معاہدہ طے پا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read