نئی دہلی : ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد پہلی بار عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ کئی اہم شرائط پر طویل بات چیت کے بعد کیا ہے۔ وانگچک گزشتہ 26 دنوں سے مبینہ پیپر لیک معاملے کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال پر تھے، تاہم مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے اپنا انشن ختم کرنے کا اعلان کیا۔سونم وانگچک نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس فیصلے کی اطلاع دی۔ انہوں نے لکھا کہ مرکزی وزیر جے پی نڈا، ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور لیہ-لداخ کی ایپیکس باڈی کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں انہوں نے 26 روز بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کے 65 ارکان پارلیمنٹ نے یا تو ان سے ملاقات کی یا خطوط پر دستخط کرکے ان سے انشن ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
وانگچک نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ طویل مذاکرات، متعدد شرائط پر اتفاق اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی ایک ویڈیو جاری کرکے ان تمام شرائط اور حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں، ہوشیار رہیں اور کسی بھی صورت میں تشدد یا قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔اس سے قبل مرکزی وزیر جے پی نڈا نے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو اور دیگر نمائندوں سے ملاقات کے دوران حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کرنے والوں اور 20 جولائی 2026 کو پارلیمنٹ مارچ میں شامل افراد کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے کے معاملے پر مثبت رویہ اختیار کر رہی ہے۔ نڈا نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی خواہاں ہے۔
ادھر کاکروچ جنتا پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ داس نے وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے پہلے بھی خط لکھ کر ان سے انشن ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔ سوربھ داس نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے غیر جانبدار مقام پر مذاکرات کی تجویز قبول کر لی ہے اور بات چیت کے لیے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کو منتخب کیا گیا ہے، جسے تحریک کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


