Sonam Wangchuk: اب کیا کرنے جا رہے ہیں سونم وانگچک؟ ابھجیت دیپکے بھی ساتھ، کیا بڑا اعلان
سونم وانگچک نے کہا کہ میٹنگ میں سوالات کی ایک فہرست دی گئی اور بتایا گیا کہ ان معاملات پر اگلی میٹنگ میں بات چیت کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی، براہ راست حد بندی اور انتخابات جیسے موضوعات پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، لیکن اس میٹنگ میں ان مسائل پر کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
Jamia Millia Islamia Student Protest: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گرلز ہاسٹل میں طالبات کا ہنگامہ، خراب کھانے کے خلاف احتجاج، ویڈیو وائرل
ہاسٹل میں انتہائی خراب کھانا دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل شکایات کے باوجود ڈپٹی پراکٹر نکہت اور وارڈن کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر دھمکایا گیا۔ طالبات کے والدین نے جب ڈپٹی پراکٹر نکہت کو فون کیا تو انہیں بھی دھمکانے کا الزام ہے۔انہوں نے بتایا کہ طالبات نے صبح دھرنا شروع کیا، جو تقریباً 4 سے 5 گھنٹے تک جاری رہا۔
Swatantra Bhardwaj Case: سوتنتر بھاردواج معاملے میں چیف جسٹس سخت، اگر سماج دشمن عناصر نے بچوں کے خلاف تشدد کیا ہے اور وہ اب بھی آزاد ہیں، تو یہ سنگین معاملہ ہے
وکیل نے معاملہ عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل کے مطابق اس بات کے ثبوت کے طور پر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔
Supreme Court’s Important Decision: نیٹ پیپر لیک کے خلاف مظاہروں سے متعلق مقدمات پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم
عدالت نے دہلی، آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم دہلی پولیس کو ان 2,873 افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جن کے خلاف پہلے سے مجرمانہ مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی ریاست میں اسی احتجاج سے متعلق ایسی کوئی ایف آئی آر موجود ہے جس کی اطلاع عدالت کو ابھی نہیں دی گئی، تو اسے بھی منسوخ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے اور ریاستیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔
Student Riot in Patna:پٹنہ میں طلبہ کا ہنگامہ،15نکاتی مطالبات کو لے کر وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے گھیراؤکی کوشش،مارچ کر رہے طلبہ کوپولیس نے حراست میں لیا
بیریکیڈنگ توڑی، پولیس سے جھڑپ،70ویں BPSC امتحان منسوخ کرنے سمیت کئی مطالبات پر طلبہ کا احتجاج، پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا، مظاہرین کا الزام ہے کہ امتحان میں مبینہ طور پر پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
Union minister Ramdas Athawale: رام داس اٹھاولےنے ریزرویشن کی مخالفت کرنے والوں پر بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا کیا مطالبہ
رام داس اٹھاولے نے کہا کہ ملک میں کچھ لوگ ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ریزرویشن ایک آئینی حق ہے اور اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ریزرویشن مخالف سرگرمیوں کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے ایسے معاملات میں سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
Ujjain Gen Alpha Protest: اجین میں طالبات کا سرکاری اسکول دور منتقل کرنے کے خلاف احتجاج، روتے ہوئے کہا: ہمیں صرف تعلیم چاہیے
طالبات نے تقریباً دو گھنٹے تک دھرنا دیا اور اسکولوں کو داؤد کھیڑی منتقل کرنے کی مجوزہ تجویز کے خلاف نعرے لگائے۔ داؤد کھیڑی ان طالبات کے موجودہ اسکولوں سے تقریباً 6 سے 10 کلومیٹر دور اور شہر کی حدود سے باہر واقع ہے۔احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی پہلے ہی آس پاس کے دیہی علاقوں سے لمبا سفر کرکے اسکول پہنچتی ہیں۔
Congress leader Rahul Gandhi: رانچی میں طلبہ کے احتجاج پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین کو لکھا خط، کہا: طلبہ کے مطالبات جائز ہیں
راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خود احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ کی ذاتی طور پر طلبہ سے بات چیت کرنے سے حکومت کی جانب سے ان کے باقی مسائل حل کرنے کے عزم کو تقویت ملے گی۔راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور اس طرح کے بحران کے وقت ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کی آواز سننا سب کی ذمہ داری ہے۔
Jharkhand Public Service Commission: اسمبلی کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر جھارکھنڈ پولیس نے واٹر کینن کا کیا استعمال
لوگوں سے انہیں ہیرو نہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے مہتو نے کہا، ’’میں کوئی بھگوان یا مسیحا نہیں ہوں، میں ایک عام آدمی ہوں۔ میری ذاتی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لیکن بھوک ہڑتال سے زیادہ تکلیف کانٹے دار تاروں سے ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ نے بیریکیڈنگ کی تین تہیں عبور کرلی ہیں۔ مہتو نے سوال کیا کہ حکومت افراتفری کیوں چاہتی ہے اور طلبہ کے مطالبات کیوں نہیں مان رہی؟
Exam Irregularities: جھارکھنڈ حکومت کی JPSC-JSSC امیدواروں کے وفد سے تازہ دور کی بات چیت جاری، طلبہ کا فوری اور ٹھوس فیصلے کیے جانے کا مطالبہ
طلبہ وفد کے ایک رکن نے اس سے قبل وزیراعلیٰ ہیمنت سورین پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ وزیراعلیٰ ان کے مطالبات پورے کریں گے۔ ایک اور رکن نے اے این آئی سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ حکومت ان کی بات سنے گی، تاہم اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو پیر کے لیے طلبہ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی ہے۔





