Bharat Express DD Free Dish

Student protest

سونم وانگچک نے کہا کہ میٹنگ میں سوالات کی ایک فہرست دی گئی اور بتایا گیا کہ ان معاملات پر اگلی میٹنگ میں بات چیت کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی، براہ راست حد بندی اور انتخابات جیسے موضوعات پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، لیکن اس میٹنگ میں ان مسائل پر کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ہاسٹل میں انتہائی خراب کھانا دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل شکایات کے باوجود ڈپٹی پراکٹر نکہت اور وارڈن کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر دھمکایا گیا۔ طالبات کے والدین نے جب ڈپٹی پراکٹر نکہت کو فون کیا تو انہیں بھی دھمکانے کا الزام ہے۔انہوں نے بتایا کہ طالبات نے صبح دھرنا شروع کیا، جو تقریباً 4 سے 5 گھنٹے تک جاری رہا۔

وکیل نے معاملہ عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل کے مطابق اس بات کے ثبوت کے طور پر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔

عدالت نے دہلی، آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم دہلی پولیس کو ان 2,873 افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جن کے خلاف پہلے سے مجرمانہ مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی ریاست میں اسی احتجاج سے متعلق ایسی کوئی ایف آئی آر موجود ہے جس کی اطلاع عدالت کو ابھی نہیں دی گئی، تو اسے بھی منسوخ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے اور ریاستیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔

بیریکیڈنگ توڑی، پولیس سے جھڑپ،70ویں BPSC امتحان منسوخ کرنے سمیت کئی مطالبات پر طلبہ کا احتجاج، پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا، مظاہرین کا الزام ہے کہ امتحان میں مبینہ طور پر پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

رام داس اٹھاولے نے کہا کہ ملک میں کچھ لوگ ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ریزرویشن ایک آئینی حق ہے اور اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ریزرویشن مخالف سرگرمیوں کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے ایسے معاملات میں سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

طالبات نے تقریباً دو گھنٹے تک دھرنا دیا اور اسکولوں کو داؤد کھیڑی منتقل کرنے کی مجوزہ تجویز کے خلاف نعرے لگائے۔ داؤد کھیڑی ان طالبات کے موجودہ اسکولوں سے تقریباً 6 سے 10 کلومیٹر دور اور شہر کی حدود سے باہر واقع ہے۔احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی پہلے ہی آس پاس کے دیہی علاقوں سے لمبا سفر کرکے اسکول پہنچتی ہیں۔

راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خود احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ کی ذاتی طور پر طلبہ سے بات چیت کرنے سے حکومت کی جانب سے ان کے باقی مسائل حل کرنے کے عزم کو تقویت ملے گی۔راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور اس طرح کے بحران کے وقت ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کی آواز سننا سب کی ذمہ داری ہے۔

لوگوں سے انہیں ہیرو نہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے مہتو نے کہا، ’’میں کوئی بھگوان یا مسیحا نہیں ہوں، میں ایک عام آدمی ہوں۔ میری ذاتی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لیکن بھوک ہڑتال سے زیادہ تکلیف کانٹے دار تاروں سے ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ نے بیریکیڈنگ کی تین تہیں عبور کرلی ہیں۔ مہتو نے سوال کیا کہ حکومت افراتفری کیوں چاہتی ہے اور طلبہ کے مطالبات کیوں نہیں مان رہی؟

 طلبہ وفد کے ایک رکن نے اس سے قبل وزیراعلیٰ ہیمنت سورین پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ وزیراعلیٰ ان کے مطالبات پورے کریں گے۔ ایک اور رکن نے اے این آئی سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ حکومت ان کی بات سنے گی، تاہم اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو پیر کے لیے طلبہ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی ہے۔