نئی دہلی : کانگریس کے سینئر لیڈراور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو خط لکھ کر رانچی میں گزشتہ 24 دنوں سے جاری طلبہ کے احتجاج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ خود احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کریں اور ان کے مسائل سن کر حل کی سمت میں مناسب قدم اٹھائیں۔ راہل گاندھی کے اس خط کے بعد جھارکھنڈ حکومت پر طلبہ کے مطالبات کو جلد حل کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اصلاحات کے مطالبے کو لے کر طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے دیویندر ناتھ مہتو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ اس دوران ریاستی حکومت نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے لیے بلایا ہے۔
طلبہ کے مطالبات کو جائز قرار دیا
راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ آئین نے شہریوں کو پُرامن احتجاج کا جو حق دیا ہے، وہ جمہوریت کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کے طلبہ ریاست میں بھرتی امتحانات کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پُرامن احتجاج کر رہے ہیں اور ان کے مطالبات جائز ہیں۔انہوں نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی جانب سے طلبہ کے مسائل پر بات چیت کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کے اقدام کا خیرمقدم کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے کئی مطالبات پر اتفاق بھی ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوا اور کچھ طلبہ اب بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔
آر ایس ایس اور بی جے پی پر بھی نشانہ
راہل گاندھی نے خط میں ملک کے تعلیمی نظام کو لے کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر بھی سخت الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تعلیمی نظام پر آر ایس ایس اور بی جے پی کا غلبہ ہو گیا ہے اور اسے طلبہ کے استحصال اور دباؤ کے ایک ذریعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس گزشتہ کئی ماہ سے پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی ملک بھر میں ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام کے تحت طلبہ کے مسائل اٹھا رہی ہے اور ان سے ملاقاتیں بھی کر رہی ہے۔
خود طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کریں ہیمنت سورین
راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خود احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ کی ذاتی طور پر طلبہ سے بات چیت کرنے سے حکومت کی جانب سے ان کے باقی مسائل حل کرنے کے عزم کو تقویت ملے گی۔راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور اس طرح کے بحران کے وقت ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کی آواز سننا سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہیمنت سورین سے طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے، ان کی بات سننے اور مسئلے کے حل کے لیے مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔جھارکھنڈ میں ہیمنت سورین کی قیادت میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ، کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں اور آر جے ڈی کی مخلوط حکومت ہے۔ ایسے میں حکومت کی اتحادی جماعت کانگریس کے مرکزی رہنما کی جانب سے طلبہ کے احتجاج پر براہ راست وزیر اعلیٰ کو خط لکھے جانے کو سیاسی طور پر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

