Bharat Express DD Free Dish

RSS

آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے یو جی سی کے مساوات ضوابط 2026 کو غیر متوازن قرار دیا، سنگھ کے اس بیان کے سیاسی اثرات اتر پردیش کی سیاست میں بھی دکھائی دینے لگے

وزیر اعظم نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ناگپور میں سنگھ کے صد سالہ سال کے موقع پر منعقدہ وجے دشمی پروگرام میں موہن بھاگوت نے کئی اہم موضوعات پر اپنے خیالات پیش کیے۔ مودی کے مطابق، تقریر میں سماج کو متحد رکھنے اور ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا۔

وزیر اعظم نے مزید لکھا کہ قومی سویم سیوک سنگھ نے خدمت، ملک کی تعمیر اور سماجی وابستگی کے ساتھ اپنی شاندار صد سالہ تاریخ مکمل کی ہے۔ ان گنت رضاکاروں نے اپنی لگن، فرض شناسی اور قوم کو سب سے مقدم رکھنے کے جذبے کے ساتھ ہمیشہ سماج کی ترقی کے لیے کام کیا ہے۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ جذبہ آنے والے وقت میں بھی ملک کو مزید طاقت ور اور مضبوط بنائے گا۔

مورخہ 27 ستمبر سے ہم ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسی شاندار شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں جنہوں نے روحانی جستجو، ثقافتی بیداری اور کئی دہائیوں پر محیط تنظیمی خدمات کو یکجا کیا۔

نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر جنگِ حائفہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بھارتی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا اظہار کیا، کہا: تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ بہتر انسان بنانا بھی ہے

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کی سالگرہ کے موقع پر آج ملک بھر سے انہیں مبارکباد دی جا رہی ہے۔ اس خاص موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ایک حوصلہ افزا پیغام جاری کرتے ہوئے قوم کی خدمت کے لیے ان کی طویل وابستگی اور وقف جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔

رکن پارلیمنٹ محبُ اللہ ندوی نے کہا کہ ہندو اور مسلمان بی جے پی اور سنگھ کے ظلم کے خلاف مل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی کوشش ہے کہ لڑائی کو یہ رنگ دے کر اسے کمزور کر دیا جائے۔

آر ایس ایس کے بارے میں جو کہا جاتا ہے، اسے سننا ضروری ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے ساتھ کام کرنے والے مسلمانوں کو بھی سننا اتنا ہی ضروری ہے۔ کسی تنظیم کی مکمل تصویر صرف اس کے ناقدین سے بات کرکے نہیں مل سکتی۔ اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے تجربات بھی اس تصویر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا تجربہ ہی مکمل سچائی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمارا تجربہ بھی سچائی کا ایک حصہ ہے۔

پترودا نے کہا کہ جس بھارت میں وہ بڑے ہوئے، وہ تمام برادریوں کا بھارت تھا۔ اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مختلف مذاہب اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔