نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک معاملے پر طلبہ کے طویل احتجاج اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی کی بیٹی ارچیتا سارنگی کی ایک انسٹاگرام پوسٹ سوشل میڈیا پر زبردست بحث کا موضوع بن گئی۔ ارچیتا نے استعفے سے متعلق ایک خبر کی سرخی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی، جس کے بعد انہوں نے ایک اور انسٹاگرام اسٹوری پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان پر یہ پوسٹ حذف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ کسی بھی صورت اپنی پوسٹ ڈیلیٹ نہیں کریں گی۔ کچھ ہی دیر بعد ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی غیرفعال (ڈی ایکٹیویٹ) ہو گیا، جس کے بعد اس معاملے پر قیاس آرائیاں اور سوشل میڈیا پر بحث مزید تیز ہو گئی۔دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ارچیتا نے انسٹاگرام پر ایک نیوز ہیڈلائن شیئر کی تھی، جس میں ان کے استعفے کی اطلاع دی گئی تھی۔

انہوں نے اپنی اسٹوری میں لکھا کہ وہ اس پوسٹ کو ہرگز حذف نہیں کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ڈی پی کے پی اے”، جو ان کی والدہ کو یہ پوسٹ ہٹانے کے لیے پیغامات بھیج رہے ہیں، انہیں وہ یقین دلانا چاہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ “ڈی پی” سے ان کی مراد دھرمیندر پردھان ہیں۔ اپنی اسٹوری کے اختتام پر انہوں نے لکھا، “فکر نہ کریں، یہ پوسٹ ڈیلیٹ نہیں ہوگی۔ جئے جگن ناتھ، جئے ہند۔”ادھر بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیٹ پیپر لیک معاملے میں اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے، جو ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ اپراجیتا سارنگی سیاست میں آنے سے قبل بھارتی انتظامی سروس (آئی اے ایس) میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھونیشور نشست سے کامیابی حاصل کی تھی، جہاں انہوں نے بیجو جنتا دل کے امیدوار کو تقریباً 35 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔
دریں اثنا، صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سفارش پر دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ اس کے بعد مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ پرہلاد جوشی اس سے پہلے ہی امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارتوں کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، جبکہ اب وزارتِ تعلیم کی اضافی ذمہ داری بھی ان کے سپرد کر دی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
