Bharat Express DD Free Dish

Dharmendra Pradhan

مجوزہ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے تمام مقدمات کی تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوں گی۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ ان مقدمات کی تیز رفتار سماعت ممکن ہو سکے۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد عدالت کو تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔

  انہوں نے مزید کہا کہ "ڈی پی کے پی اے"، جو ان کی والدہ کو یہ پوسٹ ہٹانے کے لیے پیغامات بھیج رہے ہیں، انہیں وہ یقین دلانا چاہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ "ڈی پی" سے ان کی مراد دھرمیندر پردھان ہیں۔ اپنی اسٹوری کے اختتام پر انہوں نے لکھا، "فکر نہ کریں، یہ پوسٹ ڈیلیٹ نہیں ہوگی۔

پراہلاد جوشی مرکزی حکومت کے سینئر وزرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ اس وقت وزارتِ امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ پارلیمانی امور، کوئلہ اور کان کنی جیسی اہم وزارتوں کی قیادت کر چکے ہیں۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کے کارکنان کے لئے عہدے سے کہیں زیادہ اہم ملک، ہماری نوجوان پیڑھی اور طالب علم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ملک کے نوجوانوں کا احترام کرتی ہے اور پیپر لیک کے خلاف سدھار کے لئے پابندعہد ہے۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ پرکہا کہ انہیں جانا ہی تھا۔ انہوں نے کہا، ’’پردھان ایک علامت ہیں- بدعنوانی کی علامت، تعلیمی نظام کی بربادی کی علامت، نااہلی کی علامت۔ انہیں جانا ہی تھا اور اچھا ہوا کہ وہ چلے گئے۔‘‘

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینئرنے کہا:"ہم اس تحریک کے دوران دہلی اوربہارمیں پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پربھی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسوگیس کے گولے داغنا اور پُرامن مظاہرین کوغیرقانونی طورپرحراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویش ناک ہیں اوران کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) سمیت احتجاج میں شریک تمام افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تمام مظاہرین نے جنتر منتر کے اسٹیج پر ہی جشن منایا۔ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ابھیجیت دیپکے نے عوام سے خطاب بھی کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ "دھرمیندر پردھان اب صرف ایک وزیر نہیں رہے بلکہ وہ تعلیمی نظام میں بدعنوانی اور طلبہ کے مستقبل کو پہنچنے والے نقصان کی علامت بن چکے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے نوجوان اور طلبہ ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں انہی کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے طلبہ کے دیگر دو مطالبات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بھی کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ وقت اور حالات بدل سکتے ہیں، لیکن مادریت کی بنیادی اقدار کبھی تبدیل نہیں ہوتیں۔ محبت، قربانی، ہمدردی اور اچھے اخلاق ہی مادریت کی اصل بنیاد ہیں، جو ہر دور میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور بہتر کردار کی تشکیل بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

اس اہم پیش رفت کے دوران کل سماجی کارکن سونم وانگچک نے نیٹ امتحان کے معاملے اور ملک کے مسابقتی امتحانی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مرکزی حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ وانگچک نے مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں میدانتا اسپتال میں اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی۔