Bharat Express DD Free Dish

Dharmendra Pradhan

اپوزیشن نے نیٹ-یوجی پیپرلیک ہونے پرمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جس کے بعد مسلسل پانچویں دن پارلیمنٹ ہنگامے کی نذرہوگیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دھرمیندرپردھان کا استعفیٰ، وزیراعظم مودی کی معافی اورمجرموں کے خلاف کارروائی بحث کی شرائط ہیں۔ حکومت بحث چاہتی ہے، لیکن اپوزیشن جوابدہی کی بات کررہا ہے۔

ایوان کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، اس کے بعد ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بامعنی بحث ہو سکتی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا، ’’جنترمنترپر ہمارا پُرامن احتجاجی مظاہرہ تب تک جاری رہے گا، جب تک دھرمیندرپردھان استعفیٰ نہیں دے دیتے۔‘‘ ابھجیت دیپکے نے کہا کہ جنترمنترپرجاری پرامن دھرنا اس وقت تک ختم نہیں ہوگا، جب تک مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دے دیتے۔

اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان پیپر لیک معاملے پر حکومت سے جواب طلب کر رہے ہیں اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔

وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ آپ ہی نے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے تعلیمی نظام پر مکمل قبضہ ہونے دیا، اسے تباہ ہونے دیا، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اس کے ذمہ دار ہر شخص کو تحفظ فراہم کیا۔

نیٹ-یو جی پیپر لیک تنازع کے درمیان مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی تقریباً تین دہائیاں پرانی طلبہ تحریک ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہے۔ مظاہرین 1997 کے اس واقعے کا حوالہ دے رہے ہیں، جب دھرمیندر پردھان خود مبینہ پیپر لیک کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کا حصہ بنے تھے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا حکم دینے والے اور اسے نافذ کرنے والے، دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

اسی دوران ایک بڑی سیاسی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ ایک طرف ایجوکیشن منسٹریا مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان ہوم منسٹرامت شاہ سے ملاقات کی اور اس پورے معاملے پر بات چیت ہوئی۔ وہیں سی جے پی کے لیڈران نے بی جے پی کے سابق صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس اورآشوتوش رانکا نے جے پی نڈا سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے آگے بات چیت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ تقریباً دو گھنٹے انتظار کے بعد انہیں نڈا سے 10 منٹ ملاقات کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی تمام مطالبات تحریری طورپرمرکزی وزیرکوسونپ دیئے۔

احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے یہ بیان جاری کیا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات گردش کر رہی ہیں کہ گیتانجلی نامی 12 سالہ بچی پر حملہ کیا گیا، اس کے بال کھینچے گئے، اس کے سر میں چوٹ لگی اور تقریباً 40 سے 50 دیگر افراد کے سر پھوڑ دیے گئے۔ پولیس نے کہا ہے کہ یہ معلومات غلط ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اورحکومت کے درمیان بات چیت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے سی جے پی لیڈران کوملاقات کے لئے بلایا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سی جے پی کے لیڈر مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کریں گے۔