رانچی: جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC امتحانات میں مبینہ دھاندلی، پیپر لیک اور اصلاحات کے مطالبے کو لے کر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کی جانب سے جمعہ کو نکالے گئے مارچ کے دوران اس وقت افراتفری مچ گئی جب آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی قومی صدر نیہا بورا پر ایک نوجوان نے اچانک کالی سیاہی پھینک دی۔ واقعے کے وقت برسا چوک پر ہزاروں کی تعداد میں طلبہ ہاتھوں میں ترنگا اور مختلف مطالبات پر مشتمل تختیاں لے کر احتجاج کر رہے تھے۔
’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سیاہی پھینکنے کا الزام
عینی شاہدین کے مطابق، بھیڑ میں موجود ایک نوجوان نے ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے نیہا بورا پر سیاہی پھینکی۔ اچانک ہوئے اس حملے کے بعد موقع پر افراتفری پھیل گئی اور مظاہرین نے شدید ہنگامہ کیا۔ موقع پر تعینات پولیس اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر سیاہی پھینکنے والے نوجوان کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کی حراست میں لیے گئے نوجوان نے پوچھ گچھ کے دوران مبینہ طور پر دعویٰ کیا کہ وہ نیہا بورا کو ’’ملک مخالف‘‘ اور عمر خالد کا حامی سمجھتا ہے، اسی مخالفت میں اس نے یہ قدم اٹھایا۔ دوسری جانب آئسا کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ اس حملے کے پیچھے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ افراد کا ہاتھ ہے۔ تاہم احتجاج میں شامل بعض مقامی امیدواروں کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بیرونی تنظیم یا سیاسی جماعت ان کی آزاد طلبہ تحریک کو اپنے قبضے میں لے، کیونکہ اس سے ان کے بنیادی مسائل متاثر ہوسکتے ہیں۔
نیہا بورا نے کہا ’’سیاہی کو فخر کے ساتھ قبول کرتی ہوں‘‘
واقعے کے فوراً بعد نیہا بورا نے سوشل میڈیا پر سیاہی سے داغ دار اپنی تصویر شیئر کی اور کہا کہ وہ اس سیاہی کو فخر کے ساتھ قبول کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی پولیس کی لاٹھی چارج اور دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کا سامنا کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی حرکتوں سے نہ تو ان کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر اسمبلی حلقے اور اس کے آس پاس کے راستوں پر سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ پولیس انتظامیہ حراست میں لیے گئے نوجوان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور پورے معاملے کی تفصیلی تفتیش میں مصروف ہے۔ دوسری جانب احتجاج کرنے والے طلبہ اپنے مطالبات پر اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



