نئی دہلی : نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (آئی آئی سی) میں بھارت ایکسپریس اردو کے باوقار کانکلیو ’بزمِ صحافت‘ میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال بھی شریک ہوئے۔ پروگرام میں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور و پارلیمانی امور کرن رجیجو، سابق راجیہ سبھا رکن اور بی جے پی کے ترجمان شاہنواز حسین سمیت صحافت، تعلیم اور اردو ادب سے وابستہ کئی اہم شخصیات موجود رہیں۔ پروگرام کے دوران ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافت کے سفر اور 2047 تک اس کے کردار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اردو صحافت کو ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا
ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اردو صحافت نے 18ویں، 19ویں اور 20ویں صدی میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخ کو دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ پروگرام میں اس پر تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔ انہوں نے اردو صحافت کے سفر کو سمجھنے کے لیے 1857، 1947 اور 2047 کو 3 اہم پڑاؤ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ 1822 میں ’جامِ جہاں نما‘ کی اشاعت سے لے کر 1857 کی پہلی جنگِ آزادی اور پھر 1947 سے قبل کے دور تک اردو اخبارات اور صحافیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی اور مولانا محمد علی جوہر جیسے صحافیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دور میں اردو صحافت نے ملک کے سماجی اور سیاسی ماحول کو متاثر کیا۔ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ آزادی کے بعد صحافت کے سامنے کئی نئے چیلنجز آئے، لیکن اردو صحافت نے بھی وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کیا اور جدید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اب 2047 کو مدنظر رکھتے ہوئے اردو صحافت کو ٹیکنالوجی اور جدت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
بھارت ایکسپریس نبھا رہا ہے بڑی ذمہ داری
اپنے خطاب میں انہوں نے اردو کے حوالے سے قائم ایک عام تاثر پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے، جبکہ اس کی تاریخ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ 1822 میں شائع ہونے والے ’جامِ جہاں نما‘ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے مالک ہری دت تھے۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ اردو صحافت کو آگے بڑھانے میں مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کردار رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایکسپریس ہو، سہارا ہو یا روزنامہ جاگرن کا ’انقلاب‘، اردو صحافت کو آگے بڑھانے والے تمام لوگوں کو صرف مذہب کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، 2047 تک اردو کو صرف ایک برادری کی زبان سمجھنے والے تصور کو ختم کرنے کی سمت میں کام کرنا ضروری ہے۔
زبان کے معیار پر توجہ دینے کی اپیل
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ خبر لکھتے وقت زبان اور بیان کے اعتبار سے غلطیوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹنگ ہو، فیچر ہو یا کوئی اور مواد، زبان کی درستگی اور صحافت کے معیار کو ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر اردو صحافت اپنی تاریخی وراثت کے ساتھ ٹیکنالوجی، جدت اور جدید صحافت کو اپناتے ہوئے آگے بڑھتی ہے تو ’وکست بھارت 2047‘ کے سفر میں اس کا بھی اہم کردار ہوگا۔ بھارت ایکسپریس اور این سی پی یو ایل کے اس پروگرام میں دن بھر اردو صحافت، زبان اور اس کے مستقبل سے جڑے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



