پاکستان کے معروف انسانی حقوق کارکن اور کراچی کے سابق میئر عارف اجاکیا نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے متعلق ایک اجلاس میں پاکستان کے اندر پانی کی تقسیم اور سندھ کے مسائل پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو پانی کی کمی کا سامنا صرف بھارت کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے اندر پانی کی تقسیم کے نظام سے بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں دریائے سندھ کے پانی کی مقدار کم ہونے کی ایک بڑی وجہ بالائی علاقوں میں نہری نظام کے ذریعے پانی کا رخ موڑنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں بھی اجاکیا ماضی میں پنجاب کی جانب سے دریائے سندھ کے پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور سندھ کے پانی کے حقوق سے متعلق خدشات اٹھا چکے ہیں۔
’پانی بھارت نے نہیں، پنجاب نے لوٹا‘
اجاکیا نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں پانی کی تقسیم کا موجودہ نظام پنجاب کو زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے، جبکہ سندھ، بلوچستان اور دیگر علاقوں کو اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق دریائے سندھ کا پانی سندھ تک پہنچتے پہنچتے کافی کم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو بھارت پر الزام لگانے سے پہلے اپنے اندر پانی کی تقسیم کے مسئلے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔
پاکستانی فوج اور سیاسی نظام پر تنقید
عارف اجاکیا نے پاکستان کے سیاسی اور انتظامی نظام پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کے مطابق ملک میں فوج کا اثر و رسوخ کئی دہائیوں سے برقرار ہے اور سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کو انسانی حقوق اور وسائل سے متعلق مختلف مسائل کا سامنا ہے۔
اجاکیا ماضی میں بھی عالمی انسانی حقوق کے فورمز پر پاکستان میں سندھ اور مہاجر برادری کے حقوق کا معاملہ اٹھاتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق وہ 1990 کی دہائی میں بھی پاکستان میں انسانی حقوق اور سندھ کے مسائل پر بیانات دے چکے ہیں۔
دہشت گردی کے معاملے پر بھی پاکستان کو گھیرا
اجاکیا نے اپنے خطاب میں پاکستان کی پالیسیوں کو دہشت گردی کے مسئلے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے دہشت گردی کے معاملے پر واضح اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے ماضی کے کئی دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کیے۔
حالیہ جنیوا اجلاس سے متعلق رپورٹ کے مطابق اجاکیا نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے معاملے کو بھی وسیع تر سکیورٹی صورتحال سے جوڑا اور بھارت کی جانب سے معاہدے کو التوا میں رکھنے کے فیصلے کی حمایت کی۔ یہ موقف ان کا ذاتی موقف ہے۔
’مودی نے پاکستان کو آخری موقع دیا تھا‘
اجاکیا نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لاہور دورے اور اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن ان کے مطابق پاکستان کی فوج کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
اجاکیا نے کہا کہ جب تک دہشت گردی کے مسئلے پر ٹھوس اقدامات نہیں ہوتے، بھارت اور پاکستان کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی مشکل رہے گی۔
عارف اجاکیا کون ہیں؟
عارف اجاکیا پاکستان کے انسانی حقوق کے کارکن اور سابق سیاست دان ہیں۔ وہ کراچی کے جمشید ٹاؤن کے ناظم بھی رہ چکے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور دیگر علاقوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتے رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ریکارڈ سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ اجاکیا نے ماضی میں انسانی حقوق اور سندھ کے پانی کے مسئلے پر عالمی ادارے کے فورمز میں شرکت اور اظہارِ خیال کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


