Bharat Express DD Free Dish

Mahatma Gandhi

پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے ’جشنِ ریختہ‘ جیسے پروگرام اہم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں کسی زبان کا ایسا بڑا جشن منعقد نہیں ہوتا، جس میں لاکھوں لوگ شرکت کرتے ہوں۔ انگریزی بولنے والے نوجوان بھی اردو سے جڑاؤ محسوس کرتے ہیں، کیونکہ یہ زبان دل اور دماغ دونوں کو چھوتی ہے۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ خبر لکھتے وقت زبان اور بیان کے اعتبار سے غلطیوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹنگ ہو، فیچر ہو یا کوئی اور مواد، زبان کی درستگی اور صحافت کے معیار کو ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر اردو صحافت اپنی تاریخی وراثت کے ساتھ ٹیکنالوجی،

وزیر اعظم مودی نے طلبہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ نوجوانوں کو اپنی نظمیں پڑھتے ہوئے سننا ان کے لیے ایک جذباتی تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہت عرصہ پہلے میرے ذریعے لکھی گئی نظمیں، آج مجھے یہ موقع ملا کہ میں انہیں ان نوجوانوں کی زبانی سنوں۔

آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے اقتدار میں آنے والے لیڈروں کو بھی خبردار کیا کہ حکومت کو عیش و عشرت یا ذاتی مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے نئے وزرا کو یاد دلایا کہ آزاد بھارت میں عہدے اور اختیارات کے ساتھ بڑی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔گاندھی نے اقتدار کو ’کانٹوں کا تاج‘ قرار دیتے ہوئے غریبوں، دیہات اور عام لوگوں کی خدمت کو اولین ترجیح دینے کا پیغام دیا۔

امت شاہ نے کہا کہ ملک کو آزاد کرانے کی اس عظیم جدوجہد میں اپنا سب کچھ قربان کرنے والے تمام امر مجاہدینِ آزادی کو وہ سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست کرانتی کا یہ دن ہمیں قومی مفاد کو سب سے مقدم رکھتے ہوئے دیسی مصنوعات اپنانے، خود کفیل ہندوستان کی تعمیر اور ’وکست بھارت‘ کے عزم کو پورا کرنے کی تحریک دیتا ہے۔

تحریک کے دوران مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر احتجاج کی قیادت کی اور ہندوستان سے برطانوی حکومت کے منظم انخلا کا مطالبہ کیا۔ اپنی تقاریر کے ذریعے گاندھی نے عوام کو متاثر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر وہ ہندوستانی جو آزادی چاہتا ہے اور اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اسے خود اپنی رہنمائی کرنی چاہیے۔

امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر ہونے والی ملک گیر تحریک کے بعد سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر وانگچک نے کہا کہ یہ صرف ایک آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو تسلیم کرکے اب اس کا حل تلاش کیا جاتا ہے تو ملک ایک بہتر سمت میں آگے بڑھے گا۔ ان کے مطابق حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ مثبت مذاکرات کے ذریعے ملک کے لیے بہترین راستہ اختیار کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:"وکٹوریہ کے پیس پارک میں مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ باپو کے نظریات نسل در نسل لوگوں کو امن، انصاف اور انسانی وقار کی جستجو میں متحد کرتے رہے ہیں۔

جسٹس گوئی نے معروف قانون دان نانی پالکی والا کو بھی یاد کیا، جن کے دلائل کی بنیاد پر “کیشوانند بھارتی” مقدمے میں آئین کے “بنیادی ڈھانچے کے نظریے” کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے 1975 کی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس ایچ آر کھنہ کی جرات مندانہ اختلافی رائے کا ذکر کیا

اس سے قبل صدر لولا ڈا سلوا کو نئی دہلی میں واقع راشٹرپتی بھون کے صحن میں شاندار رسمی استقبال پیش کیا گیا۔ اس موقع پر بھارت کی صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔ برازیلی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔