Bharat Express DD Free Dish

Mahatma Gandhi

تحریک کے دوران مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر احتجاج کی قیادت کی اور ہندوستان سے برطانوی حکومت کے منظم انخلا کا مطالبہ کیا۔ اپنی تقاریر کے ذریعے گاندھی نے عوام کو متاثر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر وہ ہندوستانی جو آزادی چاہتا ہے اور اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اسے خود اپنی رہنمائی کرنی چاہیے۔

امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر ہونے والی ملک گیر تحریک کے بعد سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر وانگچک نے کہا کہ یہ صرف ایک آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو تسلیم کرکے اب اس کا حل تلاش کیا جاتا ہے تو ملک ایک بہتر سمت میں آگے بڑھے گا۔ ان کے مطابق حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ مثبت مذاکرات کے ذریعے ملک کے لیے بہترین راستہ اختیار کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:"وکٹوریہ کے پیس پارک میں مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ باپو کے نظریات نسل در نسل لوگوں کو امن، انصاف اور انسانی وقار کی جستجو میں متحد کرتے رہے ہیں۔

جسٹس گوئی نے معروف قانون دان نانی پالکی والا کو بھی یاد کیا، جن کے دلائل کی بنیاد پر “کیشوانند بھارتی” مقدمے میں آئین کے “بنیادی ڈھانچے کے نظریے” کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے 1975 کی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس ایچ آر کھنہ کی جرات مندانہ اختلافی رائے کا ذکر کیا

اس سے قبل صدر لولا ڈا سلوا کو نئی دہلی میں واقع راشٹرپتی بھون کے صحن میں شاندار رسمی استقبال پیش کیا گیا۔ اس موقع پر بھارت کی صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔ برازیلی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

سنہ 1931 میں، مہاتما گاندھی کی رہنمائی میں، معروف مجاہد آزادی اور صنعت کار جمنالال بجاج نے گولا گوکرناتھ میں اپنی پہلی شوگر مل قائم کی۔ اس اقدام نے ایک ایسی صنعتی وراثت کی بنیاد رکھی جو بعد میں خطے کی معاشی ترقی میں انقلابی کردار ادا کرنے والی ثابت ہوئی۔

ملک نے جمعہ کے روز راشٹر پتا مہاتما گاندھی کی 78ویں برسی عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں واقع گاندھی اسمرتی میں منعقدہ پرارتھنا سبھا میں شرکت کی اور باپو کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی زندگی آج بھی لاکھوں انسانوں کے لیے امید، حوصلے اور اخلاقی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے انسانیت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ عدم تشدد کو اپنانے پر زور دیا۔ عدم تشدد میں وہ طاقت ہے جو بغیر ہتھیار کے دنیا کو بدل سکتی ہے۔

مہاتما گاندھی کا فلسفہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ امن کوئی دور کا خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول مقصد ہے۔ ان کی تعلیمات امید، ہم آہنگی اور باہمی احترام کا ایک لازوال پیغام دیتی ہیں۔

پی ایم مودی نے مزید کہا کہ پاروتی گری کی زندگی صرف آزادی کی جدوجہد تک محدود نہیں رہی ،بلکہ سماجی خدمت ان کا اصل مشن تھی۔ صحت عامہ، خواتین کے بااختیار بنانے، سماجی فلاح اور ثقافت کے فروغ میں ان کا کردار قابلِ تقلید ہے۔