Amit Shah Congratulates ABVP: پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کی مسلسل دوسری کامیابی، امت شاہ نے دی مبارکباد
پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے نتائج سامنے آنے کے بعد امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی پی کے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل دوسری بار حاصل ہونے والی یہ کامیابی نوجوان طاقت کے ’راشٹر پرتھم‘ کی نظریاتی سوچ پر غیر متزلزل اعتماد کا ثبوت ہے۔
Ranchi Student Protest: رانچی میں طلبہ تحریک کے دوران ہنگامہ، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا پر پھینکی گئی سیاہی
واقعے کے فوراً بعد نیہا بورا نے سوشل میڈیا پر سیاہی سے داغ دار اپنی تصویر شیئر کی اور کہا کہ وہ اس سیاہی کو فخر کے ساتھ قبول کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی پولیس کی لاٹھی چارج اور دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کا سامنا کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی حرکتوں سے نہ تو ان کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔
Delhi University’s Gargi College: ’اے بی وی پی گو بیک‘‘ کے نعروں کے درمیان گارگی کالج کے طلبہ نے ڈی یو ایس یو صدر کو کیمپس سے باہر نکالا
طلبہ نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر آریامن اور ان کے ساتھیوں پر غنڈہ گردی اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اے بی وی پی سے وابستہ افراد نے زبردستی کیمپس میں داخل ہو کر طلبہ کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کی کوشش کی۔
JNU is the most nationalist university: وزیراعظم مودی اور امت شاہ کے خلاف نعروں کے تنازع پر وائس چانسلر کا بیان، کہا-’’جے این یو ملک کی سب سے زیادہ قوم پرست یونیورسٹی‘‘
جے این یو کی وائس چانسلر پروفیسر شانتی شری پنڈت نے یونیورسٹی کیمپس میں وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ نعروں کے تنازع کے دوران جے این یو کو ملک کی سب سے زیادہ قوم پرست یونیورسٹی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اب مکمل طور پر حل ہو چکا ہے۔
Objectionable slogans: جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں قابل اعتراض نعروں پر تنازع، سابرمتی ہاسٹل کے باہر نعرے بازی پر ایف آئی آر کی درخواست
پیر کے روز سپریم کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے ایک معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد جے این یو کیمپس میں یہ واقعہ پیش آیا۔ جے این یو انتظامیہ نے پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔





