Bharat Express DD Free Dish

Student Politics

ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں نیہا بورا نے انتہائی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو حراست سے رہائی کے بعد سے ہی دہلی پولیس کے اہلکار سادہ لباس میں مسلسل ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور انہیں ذہنی طور پر خوف زدہ کرنے اور دھمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اڈیشہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی نے کئی یونیورسٹیوں میں اپنی موجودگی درج کرائی۔ تنظیم کے مطابق، اس نے چھ یونیورسٹیوں میں مکمل کامیابی حاصل کی، جبکہ مجموعی طور پر 13 یونیورسٹیوں میں صدر اور جنرل سکریٹری جیسے اہم عہدوں پر بھی کامیابی حاصل کی۔

طلبہ یونین محض ایک انتخابی ادارہ نہیں، بلکہ طلبہ کی آواز، ان کی قیادت، سیاسی و سماجی شعور اور جمہوری تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ اپنے مسائل انتظامیہ تک پہنچاتے ہیں، تعلیمی ماحول میں بہتری کے لیے تجاویز پیش کرتے ہیں اور مستقبل کی قیادت کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔ اگر انتخابات وقت پر ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ صرف طلبہ کو نہیں بلکہ پوری یونیورسٹی کو پہنچ سکتا ہے۔اے ایم یو کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ادارے نے ملک کو سیاست، تعلیم، صحافت، قانون، انتظامیہ اور سماجی خدمت کے میدانوں میں نمایاں شخصیات دی ہیں۔ اس لیے طلبہ کی جمہوری سرگرمیوں کو یونیورسٹی کی علمی و تہذیبی روایت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے نتائج سامنے آنے کے بعد امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی پی کے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل دوسری بار حاصل ہونے والی یہ کامیابی نوجوان طاقت کے ’راشٹر پرتھم‘ کی نظریاتی سوچ پر غیر متزلزل اعتماد کا ثبوت ہے۔

واقعے کے فوراً بعد نیہا بورا نے سوشل میڈیا پر سیاہی سے داغ دار اپنی تصویر شیئر کی اور کہا کہ وہ اس سیاہی کو فخر کے ساتھ قبول کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی پولیس کی لاٹھی چارج اور دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کا سامنا کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی حرکتوں سے نہ تو ان کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔

طلبہ نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر آریامن اور ان کے ساتھیوں پر غنڈہ گردی اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اے بی وی پی سے وابستہ افراد نے زبردستی کیمپس میں داخل ہو کر طلبہ کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

جے این یو کی وائس چانسلر پروفیسر شانتی شری پنڈت نے یونیورسٹی کیمپس میں وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ نعروں کے تنازع کے دوران جے این یو کو ملک کی سب سے زیادہ قوم پرست یونیورسٹی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اب مکمل طور پر حل ہو چکا ہے۔

پیر کے روز سپریم کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے ایک معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد جے این یو کیمپس میں یہ واقعہ پیش آیا۔ جے این یو انتظامیہ نے پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔