پنجاب کی لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ہاسٹل کی جانب جانے والے راستے پر یونیورسٹی کی باؤنڈری وال میں موجود گیٹ بند کیے جانے کے بعد طلبہ مشتعل ہو گئے۔ طلبہ نے گیٹ پر دھکا مکی کرتے ہوئے اسے زبردستی کھولنے کی کوشش کی، جس کے دوران ایک گیٹ ٹوٹنے کی بھی اطلاع ہے۔ ہنگامے کی اطلاع ملتے ہی پنجاب پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی کیمپس میں تعینات کر دی گئی۔ پولیس افسران نے طلبہ کو سمجھا کر حالات معمول پر لانے کی کوشش کی۔ موقع پر موجود پنجاب پولیس کے ڈی ایس پی اومکار سنگھ برار نے کہا کہ پولیس طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتی اور بات چیت کے ذریعے صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
طلبہ نے کیا الزامات لگائے؟
ڈی ایس پی برار کے مطابق طلبہ کی جانب سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور پولیس ان کی بات سن رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ طلبہ ہائی وے پر بھی بیٹھے ہوئے ہیں، جنہیں سمجھا کر وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ٹریفک اور امن و امان کی صورتحال معمول پر آ سکے۔ طلبہ کی جانب سے ایک مبینہ ریپ متاثرہ سے متعلق بھی سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ڈی ایس پی اومکار سنگھ برار نے کہا کہ فی الحال طلبہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس مبینہ متاثرہ کا پتہ لگانے اور پورے معاملے کی حقیقت سامنے لانے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔
طلبہ کی جانب سے ایس آئی ٹی میں شمولیت
ڈی ایس پی نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) میں طلبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ انہیں تحقیقات کے عمل سے آگاہ رکھا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران جو حقائق سامنے آئیں گے، ان کی بنیاد پر آئندہ کارروائی کی جائے گی۔ ادھر شام کے وقت یونیورسٹی کیمپس میں ہونے والے ہنگامے کے دوران بڑی تعداد میں طلبہ گیٹ کے قریب جمع ہو گئے۔ طلبہ بند کیے گئے گیٹ کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی دوران دھکا مکی ہوئی اور ایک گیٹ ٹوٹ گیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیمپس میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔
گیٹ پر پولیس کے ساتھ بھی دھکا مکی
واقعے سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیوز میں طلبہ کو گیٹ پر دھکا مکی کرتے اور اسے کھولنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کی موجودگی میں طلبہ کو پرسکون کرنے کی کوشش جاری رہی۔ فی الحال پولیس پورے واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح صورتحال کو پرامن رکھنا ہے۔ طلبہ کی جانب سے عائد الزامات اور مبینہ متاثرہ سے متعلق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی پورے واقعے کی صورتحال واضح ہو سکے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



