Bharat Express DD Free Dish

Punjab

ای ڈی کی یہ کارروائی سندر شام اروڑہ پر لگے 5 کروڑ روپے کی رشوت کے الزامات سے متعلق معاملے میں کی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ موہالی میں 25 ایکڑ زمین کے سودے اور اس کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنے کے بدلے رشوت لی گئی تھی۔

امت شاہ کے پنجاب دورے سے پہلے بی جے پی نے ریاست میں منشیات کے مسئلے کو لے کر عام آدمی پارٹی کی حکومت پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ بی جے پی رہنما روی نیت سنگھ بٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پنجاب اس وقت منشیات کے سنگین مسئلے سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کو بچانے اور ریاست کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں تشویش اور خوف کا ماحول ہے۔ سڑک کنارے کام کر رہے مزدوروں کے ساتھ پیش آئے اس حادثے نے حفاظتی انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ منریگا کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کو سڑک پر کام کے دوران تیز رفتار گاڑیوں سے خطرہ لاحق رہتا ہے۔ حادثے کے بعد مزدوروں کی حفاظت کو لے کر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پنجاب میں منشیات کے کاروبار، گینگسٹر ازم اور بڑھتے جرائم کو لے کر سیاسی گھمسان تیز ہوگیا ہے۔ کسان گلزار سنگھ کی موت اور منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے پروندر سنگھ جھوٹا کے قتل کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھگونت مان حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

پنجاب کے ایک کسان خاندان سے تعلق رکھنے والی ہرجندر کور نے مشکلات کے باوجود حاصل کی کامیابی، گلاسگو کامن ویلتھ گیمز 2026 میں چاندی کا تمغہ جیت کر ملک کا نام کیا روشن

ریلی میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں بی جے پی کارکنوں کے پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے لیے چار الگ پارکنگ مقامات تیار کیے گئے ہیں۔ پنڈال کے قریب وی آئی پی گاڑیوں کے لیے الگ پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق ریلی میں 3000 سے زیادہ بسیں اور تقریباً 2000 چھوٹی گاڑیاں پہنچ سکتی ہیں۔

شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ امریکی سفیر کے دورے کے دوران پنجاب، سکھ حقوق اور ہندوستان-پاکستان تعلقات سے متعلق مسائل ان کے سامنے اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دورہ سکھ برادری کے لیے اہم ہے۔

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ہاسٹل کی جانب جانے والے راستے پر یونیورسٹی کی باؤنڈری وال میں موجود گیٹ بند کیے جانے کے بعد طلبہ مشتعل ہو گئے۔ طلبہ نے گیٹ پر دھکا مکی کرتے ہوئے اسے زبردستی کھولنے کی کوشش کی، جس کے دوران ایک گیٹ ٹوٹنے کی بھی اطلاع ہے۔ ہنگامے کی اطلاع ملتے ہی پنجاب پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی کیمپس میں تعینات کر دی گئی۔

بتایا جا رہا ہے کہ طالبات کے ہاسٹل کے قریب سے طلبہ کا احتجاج شروع ہوا تھا۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پیغام کو بتایا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی بیرونی شخص نے ایک طالبہ کے ساتھ عصمت دری کی ہے۔

سندھ کے پانی کی تقسیم پر پاکستان کی فوج اور پنجاب کو ذمہ دار قرار دیا، دہشت گردی اور مقبوضہ علاقوں کی صورتحال کا بھی ذکر