Bharat Express DD Free Dish

NEET Controversy

نیٹ پی جی کے امتحان میں سب سے زیادہ تنازع مختلف شفٹوں میں الگ الگ سوالیہ پرچے ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا تھا۔ بعض اوقات ایک شفٹ کا پرچہ نسبتاً آسان جبکہ دوسری شفٹ کا مشکل ہوتا تھا، جس کے بعد نمبروں کو برابر کرنے کے لیے نارملائزیشن کا طریقہ اپنایا جاتا تھا۔ اس عمل پر کئی امیدوار اعتراض کرتے رہے اور اسے غیر منصفانہ قرار دیا جاتا تھا۔

آج اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں حکومت کے خلاف سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔

اس معاملے پر انڈین یوتھ کانگریس نے بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کرناٹک یوتھ کانگریس 21 مئی کو بنگلورو میں ’’راج بھون چلو‘‘ مارچ نکالے گی، جس میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم نے اس تنازع کے بعد اعلان کیا ہے کہ اگلے سال سے این ای ای ٹی-یو جی امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT) موڈ میں کرایا جائے گا، جبکہ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد ہوگا۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے نیٹ 2026 کو منسوخ کر کے دوبارہ امتحان کرانے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا فیصلہ در اصل حکومت کی سنگین کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔ اگرچہ امتحان کے نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا، تاہم اس سے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔

نیٹ یوجی 2026 امتحان سے متعلق بڑا تنازعہ سامنے آیا ہے، جس میں راجستھان ایس اوجی کی جانچ میں سیمپل پیپر(نمونے کے پرچے) اوراصل امتحان کے سوال ایک جیسے ہونے سے پیپر لیک کا خدشہ بڑھا گیا ہے۔

سی بی آئی کی پوچھ گچھ کے دوران، تقریباً سبھی ملزمین نے سنجیو کمار عرف سجیو مکھیا اور سکندر یادوینڈو کو نیٹ امتحان کے سوالیہ پرچے لیک کرنے کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر نامزد کیا۔

وزیر تعلیم نے کہا، "کانگریس صرف حکومتی مشینری کے کام میں انتشار اور رکاوٹ پیدا کرنا چاہتی ہے۔ صدر نے خود اس معاملے پر بات کی ہے جس پر کانگریس بحث کرنا چاہتی ہے۔

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کہا، 'حکومت ہر طرح کی بحث کے لیے تیار ہے، لیکن سب کچھ قواعد کے مطابق ہونا چاہیے اور شائستگی کو برقرار رکھنا چاہیے۔

کانگریس کی اسٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی (نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا) نیٹ پیپر تنازعہ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ جمعرات کو این ایس یو آئی کے کارکن این ٹی اے کے دفتر میں داخل ہوئے۔

جب بھی کسی بھی امتحان کا اعلان ہوتا ہے تو یہ گروہ ریاست کے مختلف اضلاع میں واٹس ایپ گروپس بنا کر طلبہ کو دھوکہ دے کر امتحان پاس کرنے کا وعدہ کرتا تھا۔