Bharat Express DD Free Dish

Government criticism

طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر راہل گاندھی نے وزیرداخلہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد لاٹھی چارج  پیلیٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کی اجازت آپ نے دی تھی یا نہیں۔ پولیس کی کارروائی میں 19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا حکم دینے والے اور اسے نافذ کرنے والے، دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

گیتانجلی انگمو نے الزام لگایا کہ پابندیوں اور آمد و رفت میں رکاوٹوں کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ احتجاج میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کو دبانے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے ایک بیداری کی گھنٹی کے طور پر دیکھے۔ انہوں نے کہا ’’حکومت نے آج میٹرو، اوبر اور دیگر ذرائع کو بند کرنے کی کوشش کی، اس کے باوجود میں ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چل کر یہاں پہنچی اور دیکھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔

پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن تعلیمی شعبے سے متعلق اہم مسائل پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن اسی معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

سونم وانگچک کی اہلیہ نے مرکز پر لگایا الزام لگاتے ہوئے کہا کہحکومت کو خدشہ تھا کہ مارچ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ شامل ہو جائیں گے۔ دہلی ہائی کورٹ نے فوری راحت دینے سے کیا انکار۔ وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال سے منتقل کرنے کی درخواست مسترد۔ عدالت نے کہا ہے کہ وانگچک کو غیر قانونی طور پر قید رکھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔

اس معاملے پر انڈین یوتھ کانگریس نے بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کرناٹک یوتھ کانگریس 21 مئی کو بنگلورو میں ’’راج بھون چلو‘‘ مارچ نکالے گی، جس میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم نے اس تنازع کے بعد اعلان کیا ہے کہ اگلے سال سے این ای ای ٹی-یو جی امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT) موڈ میں کرایا جائے گا، جبکہ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد ہوگا۔

سپریا شرینیت نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی بنیاد کانگریس نے ہی رکھی تھی، جب پنچایتی راج انتخابات میں 33 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں لاکھوں منتخب خواتین نمائندے اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اکھیلیش یادو نے رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری اور بھارت-امریکہ معاشی تعلقات کے تناظر میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ’میک اِن انڈیا‘ اور ’اسکل انڈیا‘ جیسے پروگراموں پر سوالات اٹھائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے بھارت پر اضافی 25 فیصد محصولات عائد کیے کیونکہ بھارت کی روسی تیل کی درآمدات، براہ راست یا بالواسطہ، امریکہ کے لیے غیرمعمولی اور خطرناک ہیں۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں خواتین کی سلامتی کے مسائل پر بحث جاری ہے اور حکومتیں خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہیں۔ تاہم، ایسے پوسٹرز یہ سوال کھڑا کرتے ہیں کہ کیا سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے ذمہ داری عام شہریوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟