لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیر کے روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 10 دن کے اندر چوتھی مرتبہ اضافے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوام کی جیب کو ’’خاموشی سے خالی‘‘ کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ’’انفلیشن مین مودی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھا گیا، لیکن جیسے ہی انتخابات ختم ہوئے، قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ شروع کر دیا گیا۔
انتخابات کے بعد آٹھ روپے اضافہ
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’انفلیشن مین مودی پھر وار کر رہے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں قسطوں میں بڑھائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کی جیب خاموشی سے خالی ہوتی رہے۔ میں کئی مہینوں سے معاشی طوفان کی وارننگ دے رہا تھا، لیکن مودی جی اُس وقت ہمیشہ کی طرح انتخابی مہم میں مصروف تھے۔ انتخابات ختم ہوتے ہی پٹرول-ڈیزل آٹھ روپے مہنگا کر دیا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کا یہ سلسلہ رکے گا نہیں اور حکومت انتخابات میں وعدے کرتی ہے، جبکہ باقی وقت عوام پر بوجھ ڈالتی ہے۔
महंगाई मानव मोदी का फिर से हमला।
पेट्रोल-डीज़ल के दाम किश्तों में बढ़ाते हैं – ताकि चुपके-चुपके आपकी जेब कटती रहे।
मैं महीनों से आर्थिक तूफान आने की बात कह रहा था। पर मोदी जी तब हमेशा की तरह चुनाव में व्यस्त थे – और चुनाव खत्म होते ही पेट्रोल-डीजल ₹8 महंगा कर दिया।
और, ये…
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) May 25, 2026
ملکارجن کھڑگے کی بھی سخت تنقید
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسانوں سے لے کر چھوٹی صنعتوں تک ہر طبقہ ’’بی جے پی کی لوٹ‘‘ کا شکار ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: ’’فیول لوٹ کا روزانہ حملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ایندھن کی قیمتوں میں ہر اضافہ گھریلو بجٹ پر ایک نیا وار ہے اور اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں۔‘‘
The Daily Assault of FUEL LOOT is not over yet!
4th hike in 10 days !!
Petrol – ₹7.35/litre
Diesel – ₹7.53/litreModi Govt has sprinkled Petrol to Burn the Savings of common people.
⛽️Between 2004 and 2014, during the UPA, international crude oil prices increased by… pic.twitter.com/4rP8BfasNj
— Mallikarjun Kharge (@kharge) May 25, 2026
10 دن میں چار مرتبہ قیمتوں میں اضافہ
حالیہ اضافے سے قبل 15 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 3 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 19 مئی کو 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا، جبکہ 23 مئی کو پٹرول 87 پیسے اور ڈیزل 91 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی بلند قیمتیں، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی مسلسل بڑھتی قیمتوں سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر مہنگائی اور گھریلو بجٹ پر پڑنے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

