Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi criticizes BJP: راہل گاندھی نے بی جے پی پر سادھا نشانہ، کہا-’’ تمل ناڈو کی حکومت کو کبھی کنٹرول نہیں کر پائیں گے‘‘

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

توتھوکڈی (تمل ناڈو): لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پیر کے روز الزام لگایا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے کو کنٹرول کرنے والے دراصل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کے زیر اثر ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے بہار کی مثال پیش کی۔ راہل گاندھی نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں جس طرح وزیراعلیٰ کو ہٹا کر بی جے پی کا شخص لایا گیا، وہ اسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہاں کے وزیراعلیٰ ایک کمزور شخصیت تھے، جنہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور خاموشی سے راجیہ سبھا چلے گئے۔ بی جے پی تمل ناڈو میں بھی یہی کرنا چاہتی ہے۔‘‘

تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کرنا ناممکن

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

بی جے پی کا جوابی دعویٰ—ریاست میں تبدیلی کی لہر

وہیں بی جے پی لیڈر کے انّاملائی نے دعویٰ کیا کہ تمل ناڈو کے ووٹرز اس بار تبدیلی کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون و انتظام کی خراب صورتحال اور شہری ڈھانچے کی بدحالی سے لوگ ناراض ہیں اور اب این ڈی اے کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’ہمیں پورا یقین ہے کہ 4 مئی کے بعد ہمارے اتحاد کا وزیراعلیٰ ہوگا۔‘‘ تمل ناڈو اسمبلی انتخابات 23 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں اصل مقابلہ ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو اتحاد اور این ڈی اے کے درمیان متوقع ہے، جس میں اے آئی اے ڈی ایم کے، بی جے پی اور پی ایم کے شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read