Bharat Express DD Free Dish

BJP criticism

ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو سونم وانگچک کو جنتر منتر پر جاری احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ’خاک میں ملا دینا چاہیے‘۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے بھی سونم وانگچک کو احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے پر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس صدر کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی تقریر کے دوران مودی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا اور معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچا دیا۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

ممتابنرجی نے بی جے پی کو ’’بنگال مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ریاست کے لوگوں کو دیگر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مشکلات اور توہین کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی بنگال کی زبان، ثقافت، طرزِ زندگی اور تنوع کو ختم کرکے یکسانیت مسلط کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ آسام میں اس بار حکمراں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

پرینکا گاندھی نے کیرالہ کے وزیراعلیٰ پنارائی وجین کی قیادت والی بائیں بازو کی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت بی جے پی کے ساتھ خفیہ ہم آہنگی رکھتی ہے اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر آسام میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو خواتین کو خود روزگار شروع کرنے کے لیے 50 ہزار روپے دیے جائیں گے اور تمام اسکیموں کی رقم براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت دراصل ’’ڈبل غلامی‘‘ میں بدل چکی ہے۔

کانگریس رہنما نے ایل ڈی ایف حکومت کو ’’کارپوریٹ فنڈڈ حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بائیں بازو کی نظریاتی شناخت کھو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے، اسی طرح نریندر مودی کیرالہ کے وزیراعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ بدعنوانی بھی ایک بڑا عنصر ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال کا ’’جائز مطالبہ‘‘ صرف اس لیے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست نے بی جے پی کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔ ٹی ایم سی کے بیان کے مطابق ’’ہر انتخابی موسم میں وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ بنگال آتے ہیں اور ہمارے لوگوں، ثقافت اور مٹی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن یہ محض دکھاوا ہے۔ بنگلا مخالف عناصر کو ہماری زبان، ہماری شناخت اور ہمارے وقار کی کوئی پروا نہیں۔‘‘