کولکاتا (مغربی بنگال): مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کیرالا کے نئے نام ’کیرالم‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو یاد دلایا کہ مغربی بنگال کا نام تبدیل کر کے ’بنگلا‘ رکھنے کی تجویز بھی طویل عرصے سے زیر التوا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق ممتا بنرجی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ’’بنگلا مخالف‘‘ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر امت شاہ کو ریاست کی زبان، تہذیب اور وراثت کا کوئی احترام نہیں ہے۔ ٹی ایم سی نے لکھا کہ ممتا بنرجی نے کیرالا کے عوام کو یونین کابینہ کی جانب سے ریاست کا نام ’کیرالم‘ منظور کیے جانے پر مبارکباد دی، لیکن ساتھ ہی مرکز کو یاد دلایا کہ مغربی بنگال کا نام ’بنگلا‘ رکھنے کی تجویز برسوں سے التوا میں پڑی ہے۔
’’جائز مطالبہ محض سیاسی اختلاف کی نذر نہ کیا جائے‘‘
ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال کا ’’جائز مطالبہ‘‘ صرف اس لیے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست نے بی جے پی کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔ ٹی ایم سی کے بیان کے مطابق ’’ہر انتخابی موسم میں وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ بنگال آتے ہیں اور ہمارے لوگوں، ثقافت اور مٹی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن یہ محض دکھاوا ہے۔ بنگلا مخالف عناصر کو ہماری زبان، ہماری شناخت اور ہمارے وقار کی کوئی پروا نہیں۔‘‘ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات رواں سال کے اواخر میں منعقد ہونے والے ہیں۔ ٹی ایم سی ایک بار پھر بھرپور کامیابی کی کوشش کرے گی، جبکہ بی جے پی بھی اقتدار حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ریاستی حکومت اس سے قبل بھی اسمبلی میں نام کی تبدیلی سے متعلق قرارداد منظور کر چکی ہے اور متعدد مواقع پر یہ مطالبہ مرکز کے سامنے رکھ چکی ہے۔
کیرالا کا نام ’کیرالم‘ رکھنے کی منظوری
ادھر آج ہی مرکزی کابینہ نے کیرالا کا نام تبدیل کر کے ’کیرالم‘ رکھنے کی تجویز کو منظوری دی ہے۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ’’کیرالا آلٹریشن آف نیم بل‘‘ ریاستی اسمبلی کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ یہ فیصلہ بھی ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل لیا گیا ہے، جو سال کے پہلے نصف میں متوقع ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


