وائناڈ سے ممبر پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بدھ کے روز آسام میں انتخابی ریلی کے دوران ریاستی اور مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے بی جے پی کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت کو ’’ڈبل غلامی‘‘ قرار دیا اور عوام سے کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ نازیرا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی خدمت کے بجائے اپنے مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ انہوں نے نریندر مودی اور آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت دراصل ’’ڈبل غلامی‘‘ میں بدل چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت خوف اور دباؤ کی سیاست کر رہی ہے اور آسام کے عوام کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فلاحی وعدے اور خواتین کے لیے بڑے اعلانات
پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر آسام میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو خواتین کو خود روزگار شروع کرنے کے لیے 50 ہزار روپے دیے جائیں گے اور تمام اسکیموں کی رقم براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں بھی بڑے وعدے کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو 25 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کی اسکیمیں پہلے ہی دیگر ریاستوں میں کامیابی سے نافذ کی جا چکی ہیں۔
زوبین گرگ کے لیے انصاف اور ’’نئے آسام‘‘ کا خواب
انہوں نے معروف گلوکار زوبین گرگ کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت بننے کے 100 دن کے اندر انہیں انصاف دلایا جائے گا۔ پرینکا گاندھی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ’’نئے آسام‘‘ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کانگریس کا ساتھ دیں، جہاں بدعنوانی کا خاتمہ ہو، نوجوانوں کو روزگار ملے اور خواتین خود کو محفوظ محسوس کریں۔ واضح رہے کہ آسام اسمبلی کی 126 نشستوں کے لیے ووٹنگ 9 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوگی، جبکہ نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے، جہاں این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے لیڈران انتخابات سے قبل پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آگئے ہیں اور اپنی اپنی جماعت کے لیڈروں کے حق میں ریلیاں کررہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

