Bharat Express DD Free Dish

Political Rally

ترنمول کانگریس سربراہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور سوچیں کہ کیا بنگال اپنی شناخت کھو دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی نے کئی وعدے کیے تھے، لیکن اب ان پر کوئی عمل نظر نہیں آتا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ پولیس کا احترام کرتی ہیں، لیکن ان کا الزام ہے کہ بعض اہلکاروں کو سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔  انہوں نے کہا ’’مجھے کہا جا رہا ہے کہ یا تو دوسرے گروپ میں شامل ہو جاؤ یا پھر جیل جانے کے لیے تیار رہو۔ کیا یہی پولیس کا کام ہے؟‘‘

سیاسی مبصرین کے مطابق کابینہ توسیع اور وزیر اعظم کے روڈ شو کے ذریعے این ڈی اے نے بہار میں اپنی سیاسی مضبوطی کا واضح پیغام دیا ہے۔ گاندھی میدان میں منعقدہ تقریب کو این ڈی اے کی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات 23 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں اصل مقابلہ ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو اتحاد اور این ڈی اے کے درمیان متوقع ہے، جس میں بی جے پی اور دیگر اتحادی جماعتیں شامل ہیں۔

وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ عوام میں تبدیلی کی خواہش بڑھ رہی ہے اور آنے والے انتخابات میں بڑا سیاسی بدلاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ انہوں نے کارکنان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر بوتھ جیت لیا جائے تو سیٹ جیتنا آسان ہو جائے گا۔ 

مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوگی جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ گزشتہ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 213 نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ پورا ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن ٹی ایم سی کی پالیسیوں نے مغربی بنگال کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کی ترقی کے لیے موجودہ حکومت سے نجات ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بی جے پی حکومت بنتے ہی ساتویں پے کمیشن کو نافذ کیا جائے گا، جس سے سرکاری ملازمین کو براہ راست فائدہ ہوگا۔ انہوں نے ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب مرکز اور ریاست دونوں میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہوتی ہے تو ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔

امت شاہ نے اپنی تقریر میں ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بدعنوانی، بے روزگاری، خواتین کی سلامتی کے مسائل اور غیر قانونی دراندازی جیسے مسائل بڑھ گئے ہیں۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر آسام میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو خواتین کو خود روزگار شروع کرنے کے لیے 50 ہزار روپے دیے جائیں گے اور تمام اسکیموں کی رقم براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت دراصل ’’ڈبل غلامی‘‘ میں بدل چکی ہے۔

پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ اس کی جڑیں ریاست میں مضبوط ہو رہی ہیں۔ کیرالہ بی جے پی کے صدر راجیو چندرشیکھر نے اعتماد ظاہر کیا کہ پارٹی نہ صرف اپنا کھاتہ کھولے گی بلکہ کئی نشستیں بھی جیتے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے رہنماؤں کی موجودگی سے کارکنان کا حوصلہ بڑھے گا اور عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا۔