Bharat Express DD Free Dish

Election Campaign

بی جے پی کی حکمت عملی حکومت کی کارکردگی اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے سہارے آئندہ اسمبلی انتخابات میں برتری برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں۔

بانکی پور اسمبلی حلقہ روایتی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔ یہ نشست بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے باعث ضمنی انتخاب کرایا جا رہا ہے۔ 30 جولائی کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 3 اگست کو کی جائے گی۔

مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری میں ووٹنگ کے بعد نظریں شام ساڑھے چھ بجے کے اوپینین پول پر مرکوز۔ جیسے ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگا، میڈیا ادارے اور سروے ایجنسیاں اپنے اوپینین پولز جاری کریں گی۔ یہ نتائج نہ صرف ان ریاستوں بلکہ ملک بھر کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دیں گے، جبکہ اصل فیصلہ 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آئے گا۔

امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شام 6 بجے تک مغربی بنگال میں 91.83 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو غیر معمولی عوامی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ سخت سکیورٹی کے درمیان ہونے والی اس پولنگ نے انتخابی عمل کو مزید اہم بنا دیا۔

وزیراعظم نے ٹی ایم سی پر بدعنوانی، کٹ منی اور سنڈیکیٹ راج کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی صرف اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ بنگال کی ترقی رک گئی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نتائج میں ریاست میں بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں منعقد ہو رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 23 اپریل کو 152 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی جبکہ باقی 142 نشستوں پر 29 اپریل کو پولنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں اس بار مقابلہ خاصا سخت مانا جا رہا ہے۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو تمل ناڈو، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے ووٹرز اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ریاست میں ’’سونار بنگلہ‘‘ کا خواب پورا کرے گی۔

ممتابنرجی نے بی جے پی کو ’’بنگال مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ریاست کے لوگوں کو دیگر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مشکلات اور توہین کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی بنگال کی زبان، ثقافت، طرزِ زندگی اور تنوع کو ختم کرکے یکسانیت مسلط کرنا چاہتی ہے۔

امت شاہ نے ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت دراندازی جیسے اہم مسئلے پر ناکام رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، انتخابی ماحول دن بہ دن گرم ہوتا جا رہا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ بھی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخابی مقابلہ نہایت دلچسپ اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔