Assam New Govt: این ڈی اے حکومت کے تیسرے دور کا خیرمقدم، وزیراعظم مودی نے ہمنتا بسوا سرما کو دوسری بار آسام کا وزیراعلیٰ بننے پر دی مبارکباد
ہمنتا بسوا سرما نے گوہاٹی میں منعقد شاندار تقریب میں مسلسل دوسری بار وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ آسام میں مسلسل دو مدت تک وزیراعلیٰ رہنے والے پہلے غیر کانگریسی رہنما بن گئے ہیں۔ حلف برداری تقریب میں امت شاہ، نرملا سیتارمن اور این ڈی اے حکمراں ریاستوں کے کئی وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے۔
Assam Oath Ceremony: ہمنتا بسوا سرما نے دوسری بار آسام کے وزیراعلیٰ کے طور پر لیا عہدے اور رازداری کا حلف، تقریب میں وزیراعظم مودی اور امت شاہ سمیت کئی بڑے لیڈران شریک
حلف برداری تقریب کے فوراً بعد نئی حکومت کی پہلی کابینہ میٹنگ بھی منعقد ہونے والی ہے۔ ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ نئی مدت کار میں بی جے پی کے انتخابی وعدوں اور ترقیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے این ڈی اے پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، حکومت اس پر پوری طرح کھرا اترنے کی کوشش کرے گی۔
Political Temperature Rises: ایگزٹ پول سے پہلے انتخابی منظرنامہ غیر واضح، سیاسی درجۂ حرارت میں اضافہ، ریاستوں میں ووٹروں کا فیصلہ کس کے حق میں؟ رجحان کا بے صبری سے ہورہا ہے انتظار
مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری میں ووٹنگ کے بعد نظریں شام ساڑھے چھ بجے کے اوپینین پول پر مرکوز۔ جیسے ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگا، میڈیا ادارے اور سروے ایجنسیاں اپنے اوپینین پولز جاری کریں گی۔ یہ نتائج نہ صرف ان ریاستوں بلکہ ملک بھر کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دیں گے، جبکہ اصل فیصلہ 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آئے گا۔
BJP will implement UCC in Assam: آسام میں حکومت بنتے ہی پہلا فیصلہ یونیفارم سول کوڈ کا ہوگا، انتخابی مہم کے دوران امت شاہ نے بتائی حکومت کی ترجیح
آسام کی 126 رکنی اسمبلی کے لیے 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی جبکہ 4 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ بی جے پی اپنی مہم میں یو سی سی، دراندازی کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کو مرکزی نکات کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
Infiltration Issue in Assam: ’’ہم آسام کو دراندازوں کا گڑھ نہیں بننے دیں گے‘‘ وزیر داخلہ امت شاہ کا راہل گاندھی اور کانگریس پر سخت وار
امت شاہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے دراندازوں کو تحفظ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ماضی میں ایسے قوانین بنائے جن سے غیر قانونی دراندازی کو فروغ ملا۔ امت شاہ نے شہریت ترمیمی قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس کی مخالفت محض سیاسی فائدے کے لیے کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے ماضی میں ایسے اقدامات کیے جن سے آسام میں دراندازی بڑھی۔
Bangladesh Infiltration: آسام میں وزیرداخلہ امت شاہ کا ریلی سے خطاب، یوسی سی کے نفاذ اور دراندازی کے خلاف سخت رخ اپنانے کی یقین دہانی
وزیرداخلہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے آسام دراندازوں کا مرکز بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت دراندازی کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اور ریاست کی ثقافت، زمین اور عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔
Owaisi urges voters to support AIUDF: اسدالدین اویسی کی آسام میں مسلم ووٹروں سے اے آئی یو ڈی ایف کی حمایت کی اپیل، بی جے پی اور کانگریس کو بنایا تنقید کا نشانہ
اسدالدین اویسی نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سیاست نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ریاست کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔
Rahul Gandhi lambasts Himanta: راہل گاندھی کا آسام میں بی جے پی پر سخت حملہ، کہا-’’آپ کے وزیراعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں وزیراعظم مودی‘‘
آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ آسام میں اس بار حکمراں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
Priyanka Gandhi slams BJP: پرینکا گاندھی نے کیا نئے آسام کا وعدہ، زوبین گرگ کو انصاف دلانے کا اعلان، بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار پر سخت حملہ
پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر آسام میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو خواتین کو خود روزگار شروع کرنے کے لیے 50 ہزار روپے دیے جائیں گے اور تمام اسکیموں کی رقم براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت دراصل ’’ڈبل غلامی‘‘ میں بدل چکی ہے۔
Assam Congress Leader Left The Party: آسام انتخابات سے قبل کانگریس کو بڑا جھٹکا، تین ماہ میں پانچ سینئر لیڈروں نے چھوڑی پارٹی
آسام میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی کو مسلسل بڑے جھٹکوں کا سامنا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران پارٹی کے پانچ اہم لیڈروں نے استعفیٰ دے کر سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے، جس سے ریاست میں کانگریس کی پوزیشن کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔





