ناگون، آسام: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے آسام اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ووٹروں، خاص طور پر مسلم برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کی حمایت کریں تاکہ اسمبلی میں ان کی آواز مؤثر طریقے سے پہنچ سکے۔ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ اقلیتی برادری اپنی سیاسی نمائندگی کو مضبوط بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹر اے آئی یو ڈی ایف کا ساتھ دیتے ہیں تو اس سے اسمبلی میں ان کے مسائل اور خدشات کو مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت غیر آئینی اور غیر قانونی امتیازی رویہ اختیار کر رہی ہے، جس کی وجہ سے خاص طور پر مسلم برادری متاثر ہو رہی ہے۔
بی جے پی اور کانگریس دونوں پر تنقید
اسدالدین اویسی نے اپنی تقریر میں بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں مسلم خاندانوں کو بے دخل کیا گیا اور ان کے مکانات منہدم کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کانگریس پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ان مسائل پر مؤثر آواز اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق، کانگریس کی کمزوری کی وجہ سے ہی موجودہ حکومت کو طاقت ملی ہے۔
آسام میں ’’نفرت کی سیاست‘‘ کا الزام
اسدالدین اویسی نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سیاست نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ریاست کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ انہوں نے اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے اور موجودہ حالات میں اس کی حمایت ضروری ہے۔
انتخابی پس منظر اور سیاسی مقابلہ
واضح رہے کہ آسام اسمبلی کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ ریاست میں اس بار حکمراں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جبکہ اے آئی یو ڈی ایف بھی اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے بیانات انتخابی ماحول کو مزید گرماتے ہیں اور مختلف طبقات کو متحرک کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں انتخابی مہم مزید تیز ہونے کا امکان ہے، جس کے ساتھ سیاسی بیانیہ بھی شدت اختیار کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



