Bharat Express DD Free Dish

Muslim Voters

ڈاکٹر دنیش شرما نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سماج کے کسی طبقے کے ساتھ مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا اور مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں سے مسلم سماج کی زندگی میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رجحانات نے ریاست کی سیاست میں بڑا اشارہ دیا ہے۔ ابتدائی نتائج میں جو تصویر سامنے آئی ہے، اس میں بی جے پی بھاری اکثریت کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ٹی ایم سی کے لیے یہ رجحانات تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

اسدالدین اویسی نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سیاست نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ریاست کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ 

مغربی بنگال میں تقریباً 15 سال تک اقلیتی ووٹر ترنمول کانگریس کی انتخابی طاقت کا بنیادی ستون رہے ہیں۔ اب تقریباً 30 فیصد اقلیتی ووٹروں کو لبھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، جو ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں میں سے 114 سے زائد نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے بہار اسمبلی انتخابات اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پراظہار خیال کیا ۔پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن  آف سول رائٹس (ای پی سی آر) کے سکریٹری ندیم خان نے سی اے اے مخالف سیاسی کارکنان کی مسلسل قید پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ۔

بہار اسمبلی انتخابات  میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے’’جن سوراج‘‘کے بانی پرشانت کشور یعنی PK نے ووٹنگ سے پہلے متبادل (آپشن) کی بات کی ہے۔ ساتھ  ہی انہوں نے مسلمانوں سے متعلق بھی ایک بڑا بیان دیا ہے۔

اسمبلی انتخابات 2025 میں کشن گنج کی بہادرگنج نشست پر سیاسی مقابلہ دلچسپ ہو گیا ہے۔

دہلی میں 60 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی ہے۔ کئی مسلم اکثریتی سیٹوں پررائے دہندگان نے جم کرووٹ ڈالے ہیں۔ ایسے میں جانتے ہیں کہ اس بارمسلم ووٹرکس کے ساتھ رہا۔

کانگریس لیڈر نسیم خان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران ادھو ٹھاکرے نے بھی عوام کے درمیان اپنے خیالات کا واضح اظہار کیا۔ جس طرح سے بی جے پی نے ان کی شبیہ اور ان کے ہندوتوا کے حوالے سے غلط بیانیہ قائم کرنے کا کام کیا۔

اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، راجستھان جیسی ریاستوں میں مسلم ووٹروں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ یوپی میں سماج وادی پارٹی، بہار میں آر جے ڈی، مغربی بنگال میں ٹی ایم سی اور راجستھان میں کانگریس جیسی جماعتوں کے ساتھ جاتے ہیں۔ ی