نئے نئے سیاست کے میدان میں آنے والے پرشانت کشور، جو اب بہار کی انتخابی سیاست کے مرکز میں ہیں، اپنی پارٹی جن سوراج کو فتحیاب کرنے کے لیے بیانات اور حکمتِ عملی کے ذریعے خبروں میں ہیں۔ 25 اکتوبر کو ایک جلسے کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کو اپنی سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے بھی ایک نیا سیاسی حربہ استعمال کیا ہے، جس میں ایک ’متبادل‘ (آپشن) کی بات سامنے آئی ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب 6 نومبر کو بہار میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہونی ہے، تو آخر پرشانت کشور کس متبادل کی بات کر رہے ہیں؟
کیا ہے وہ نیا متبادل؟
پرشانت کشور گزشتہ چند برسوں سے بہار کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ پہلے انہوں نے ’’جن سوراج‘‘ کے ذریعے سماجی مہم شروع کی تھی، پھر اسے ایک سیاسی پارٹی میں تبدیل کر دیا، اور اب بہار کے انتخابی میدان میں اتر چکے ہیں۔ انہوں نے 243 میں سے ہر سیٹ پر امیدوار کھڑے کیے ہیں، اگرچہ کچھ نے آخری وقت میں نام واپس لے لیا ہے۔ جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے کہا، ’’بہار کے پاس اب ایک متبادل ہے۔ آپ کو لالو یادو کے خوف سے مودی یا نتیش کو ووٹ دینے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ بی جے پی سے مت ڈریے، اگر آپ مسلمان ہیں تو صرف اللہ سے ڈریے، اور جو بہتر متبادل آپ کے سامنے ہے، اسے چنیے۔‘‘انہوں نے کہا کہ بیس سال سے حکومت انہی کی ہے، مگر ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کے لیے بہار چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ مودی جی مفت کا ڈیٹا نہ دیں، بلکہ وہ بیٹے واپس لائیں جو گجرات جا کر مزدوری کر رہے ہیں۔ ’’ہمیں ٹرین یا ڈیٹا نہیں، فیکٹری اور کام چاہیے۔‘‘
مسلمانوں کو کیا آگاہ
پرشانت کشور نے مسلم ووٹروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی کے خوف سے مسلمان لالو یادو کی لالٹین کا کیروسین نہ بنیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’مسلمان بھائی مودی کے خوف سے لالو یادو کو ووٹ دیتے ہیں، لیکن اب انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے پاس جن سوراج کا متبادل موجود ہے۔ گزشتہ تیس سے پینتیس برسوں سے ووٹر غلام بنے ہوئے ہیں — کبھی لالو کے خوف سے مودی، نتیش کو ووٹ دیتے ہیں، تو کبھی مودی کے خوف سے لالو کو۔ اگر ایک بار غلط آدمی جیت گیا تو زندگی بھر بھلا نہیں ہوگا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


