BJP Secures Political Dominance in 2025: بی جے پی نے 2025 میں قائم کیا سیاسی غلبہ، جنوبی بھارت میں پہلی بڑی جیت
بھارتی سیاست کی تاریخ میں سال 2025 بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی قیادت میں این ڈی اے کے لیے غیر معمولی کامیابیوں کا سال ثابت ہوا ہے۔ دہلی کی اقتدار واپسی سے لے کر بہار میں زبردست انتخابی جیت اور اب جنوبی بھارت میں تاریخی پیش رفت تک، بی جے پی نے ایسی سیاسی برتری قائم کی ہے جس نے حزبِ اختلاف کی حکمت عملیوں کو کمزور کر دیا ہے۔
Bihar Assembly Election 2025: بہار اسمبلی الیکشن کے بعد آرجے ڈی کو لگا بڑا جھٹکا، نتیش کمار کو ہرانے والے لیڈر نے پارٹی سے دے دیا استعفیٰ
لالو یادواورنتیش کمارکی طرح ہی وجے کرشنا جے پی تحریک سے ابھرے ہوئے لیڈرہیں۔ نتیش کمار بختیارپور میں رہتے تھے تو ان سے تقریباً 8 کلو میٹر دور اتھمل گولہ کے کلیان پور گاوں میں وجے کرشنا رہتے تھے۔ دونوں نے ایک ساتھ خوب سیاست کی ہے۔
Congress Crisis-Gandhi Family : کیا کانگریس پھر ہوگی تقسیم؟ بہار کی شکست پر گاندھی خاندان سخت نشانے پر، فیصل پٹیل نے نیا گروپ بنانے کا کیا اعلان
کانگریس پارٹی ایک بار پھر شدید سیاسی بحران اور اندرونی بغاوت کا سامنا کر رہی ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں ملی کراری شکست کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات نہ صرف تیز ہو گئے ہیں بلکہ قیادت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس صورتحال نے کانگریس کی اعلیٰ کمان، خصوصاً گاندھی خاندان راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پارٹی کے اندر جاری اس بے چینی نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں 1969 کی تاریخی کانگریس بغاوت کی یاد تازہ کر دی ہے۔
Narendra Yadav Appointed Pro-tem Speaker Of Bihar Assembly : جے ڈی یوکے نریندر یادو بہار اسمبلی کے پروٹیم اسپیکر مقرر، گورنر عارف محمد خان نے راج بھون میں دلایا حلف
بہار کی سیاست میں جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے سینئر رہنما اور عالم نگر اسمبلی حلقے سے مسلسل آٹھ مرتبہ جیت کے ریکارڈ رکھنے والے نریندر نارائن یادو کو بہار اسمبلی کا پروٹیم اسپیکر مقرر کر دیا گیا ہے۔ پیر کے روز بہار کے گورنر عارف محمد خان نے راج بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں انہیں پروٹیم اسپیکر کے عہدے کا حلف دلایا۔
Bihar New Govt Oath : وزیرِاعظم مودی سے لے کر 12 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ تک، گاندھی میدان میں طاقت کا سب سے بڑا جماوڑا، نتیش کمار لیں گے حلف
بہار میں نئی این ڈی اے حکومت کی حلف برداری کی تقریب 20 نومبر کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہوگی، جہاں نتیش کمار 10ویں بار وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی، 12 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور کئی مرکزی وزراء کے ساتھ تقریب میں شرکت کریں گے۔ تقریب میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات کی مکمل لسٹ اور مکمل شیڈول یہاں پڑھیں۔
Syed Shahnawaz Hussain : مسلمانوں کے لیے وزیراعظم مودی سے بہتر رہنما نہیں ہو سکتا: سید شاہنواز حسین
بہار میں این ڈی اے کی نئی حکومت کے قیام کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور 20 نومبر کو حلف برداری کی تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔ نئی منتخب اسمبلی اراکین کا کہنا ہے کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے اور ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔
Congress Issues Notice Leaders For Anti-Party Activities : بہار اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد کانگریس نے جاری کیا 43 لیڈروں کو شوکاز نوٹس، کس پر لگایا جائے گا الزام؟
بہار اسمبلی انتخابات میں ناقابلِ توقع شکست کے بعد کانگریس پارٹی میں اندرونی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ پارٹی نے 43 سینئر لیڈروں کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے اور انہیں تین دن کے اندر تحریری وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد انتخابات کے دوران پارٹی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
Rjd crisis after bihar election chaos: بحران کا شکار آر جے ڈی! بہار میں بگڑتے حالات، رابڑی کی رہائش گاہ پر ہنگامہ، اب کیا کریں گے تیجسوی یادو ؟
بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے ساتھ ہی سیاسی ماحول گرم ہے۔ ٹوٹتے ہوئے یادو خاندان کے خلاف رابڑی رہائش گاہ کے سامنے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ ایسے میں تیجسوی یادو اب کیا کریں گے؟
Nitish Kumar called a meeting: فتحیاب ہونے کے بعد وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کابینہ کی میٹنگ طلب کی، صبح 11.30 بجے ہوگی میٹنگ
بہار میں این ڈی اے کو ملی جیت کے بعد وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کابینہ کی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ میٹنگ پیر کو صبح 11.30 بجے پٹنا میں ہوگی۔
Bihar Assembly Elections: بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں مسلم امیدواروں کی نمائندگی میں آئی تاریخی حد تک کمی، 243 اسمبلی حلقوں میں میں صرف 11 امیدوار ہوئے کامیاب
بہار کے انتخابات میں جیتنے والے مسلم امیدواروں کی تعداد کم ہو کر 11 رہ گئی، جو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ مسلم کمیونٹی ریاست کی آبادی کا تقریباً 17 فیصد ہے، لیکن اسمبلی میں ان کا حصہ صرف 4.5 فیصد رہ گیا ہے جس پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔





