مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں جو تصویر سامنے آئی ہے، اس میں بی جے پی بھاری اکثریت کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ٹی ایم سی کے لیے یہ رجحانات تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ جن مسلم ووٹوں کو ٹی ایم سی اپنا مضبوط ووٹ بینک سمجھتی رہی ہے، اس میں اب دراڑ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی نے غیر متوقع برتری حاصل کی ہے۔
ایس آئی آر کے باعث مسلم ووٹوں میں کمی ؟
اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ٹی ایم سی کو پہلے ہی خدشہ تھا کہ ایس آئی آر کے باعث مسلم ووٹوں میں کمی سے نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس انتخاب میں ہندو ووٹروں کی بڑی تعداد میں شرکت بھی بی جے پی کے حق میں جاتی دکھ رہی ہے۔ کچھ نشستوں پر کانگریس کی موجودگی نے بھی ٹی ایم سی کے ووٹ بینک کو متاثر کیا ہے، جس سے مقابلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ابتدائی رجحانات میں کچھ مسلم اکثریتی نشستوں پر بی جے پی آگے ہے۔ جینگی پَارہ میں بی جے پی امیدوار پرسن جیت بَاغ 27,081 ووٹ حاصل کر کے 5,879 ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے ہیں۔ مرشدآباد میں بھی گوپال شنکر گھوش 59,558 ووٹ لے کر ٹی ایم سی کی شاونی سنگھ رائے سے 26,237 ووٹوں سے آگے ہیں۔
حران کن رجحانات
موثاباڑی نشست کے رجحانات سب سے زیادہ حیران کن ہیں، جہاں بی جے پی کے نِبران گھوش 34,752 ووٹ لے کر تقریباً 1,750 ووٹوں سے آگے ہیں۔ ٹی ایم سی نے یہاں اسلام نذرول کو امیدوار بنایا تھا، جو اس وقت پیچھے چل رہے ہیں۔ جبکہ کانگریس کے سائم چودھری کو بھی 12,196 ووٹ ملے ہیں، جس سے واضح ہے کہ ووٹوں کی تقسیم ہوئی ہے۔
ابھی چند نشستوں کے نتائج آنا باقی ہیں
ریاست کی مجموعی 293 نشستوں میں سے بی جے پی 194 پر آگے ہے جبکہ ٹی ایم سی تقریباً 92 نشستوں تک محدود نظر آ رہی ہے۔ ابھی چند نشستوں کے نتائج آنا باقی ہیں، لیکن اکثریت کے لیے درکار 147 کا ہندسہ بی جے پی آسانی سے عبور کرتی دکھ رہی ہے۔ان رجحانات نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا مسلم ووٹ، جو اب تک ٹی ایم سی کی طاقت سمجھا جاتا تھا، اس بار فیصلہ کن ’ایکس فیکٹر‘ بن کر پارٹی سے دور ہو رہا ہے؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


