Bharat Express DD Free Dish

Assam Politics

ریلی کے دوران سب سے اہم اعلان جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور مقامی جماعت جئے بھارت پارٹی کے درمیان انتخابی اتحاد کا تھا۔ جئے بھارت پارٹی کے قومی صدر تیہارو گور نے اسٹیج سے اعلان کیا کہ دونوں پارٹیاں آسام اسمبلی انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لیں گی۔ اس اتحاد کے تحت تقریباً 40 اسمبلی نشستوں پر امیدوار اتارنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ جس طرح ملک کے کئی حصوں کو نکسل ازم سے آزاد کرایا گیا، اسی طرح آسام کو بھی دراندازوں سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے حوصلہ، جرات اور عزم درکار ہے اور وزیرِاعظم نریندر مودی میں یہ تینوں خصوصیات موجود ہیں۔

آسام کانگریس کے سابق صدر بھوپین کمار بورا نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ان کے بی جے پی میں شمولیت کے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ اس موقع پر اے آئی یو ڈی ایف نے کانگریس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں بی جے پی کے ایجنٹس موجود ہیں اور بورا کی جانب سے اتحاد توڑا گیا۔

دو روز قبل بھی آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ آسام کے لوگ خاص طور پر ’ہندو‘ اپنی ہی زمین پر ’’مایوس اقلیت‘‘ بنتے جا رہے ہیں۔