Bharat Express DD Free Dish

Hindus May Become Minority in Assam in 10 Years: ’’اگلے 10 برسوں میں ہندو آسام میں اقلیت ہو کر رہ جائیں گے‘‘، آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے کیا دعویٰ

دو روز قبل بھی آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ آسام کے لوگ خاص طور پر ’ہندو‘ اپنی ہی زمین پر ’’مایوس اقلیت‘‘ بنتے جا رہے ہیں۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما۔ (فائل فوٹو)

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ ریاست میں مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے آبادیاتی توازن بری طرح متاثر ہوا ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ 10 برسوں میں ہندو اور آسامی لوگ اقلیت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرما نے کہا کہ ’’اگر آپ 1951 اور موجودہ آسام کی آبادی کا موازنہ کریں تو صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگلے 10 سال میں آسامی اور ہندو اقلیت بن جائیں گے۔ ہمیں ایک ایسی برادری کو زندہ کرنا ہے جو مٹنے کے دہانے پر ہے۔‘‘

دریں اثنا گزشتہ چار سال کی اپنی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بسوا سرما نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے لیے یہ کامیابیوں سے بھرپور سال رہے، حالاں کہ کچھ عناصر نے ان کی کوششوں کو ناکام بنانے کی بھی کوشش کی۔ انھوں  نے کہا کہ حکومت نے اب تک 1.29 لاکھ بیگھہ زمین غیر قانونی قبضے سے چھڑائی ہے اور یہ مہم بدستور جاری ہے۔ سرما کے مطابق خالی کرائی گئی ان زمینوں کو قدرتی ماحولیاتی نظام میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل بھی آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ آسام کے لوگ خاص طور پر ’ہندو‘ اپنی ہی زمین پر ’’مایوس اقلیت‘‘ بنتے جا رہے ہیں۔

ہم نے اپنی ثقافت، زمین اور مندر کھو دیے: ہیمنتا بسوا سرما

ہیمنتا بسوا سرما نے مزید کہا کہ ’’ہم نے اپنی ثقافت، زمین اور مندر کھو دیے۔ قانون ہمیں تحفظ نہیں دیتا۔ ہم انتقام نہیں چاہتے، بلکہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے ہم یہ جنگ ہار جائیں، لیکن وقار اور قانون کے دائرے میں رہ کر لڑیں گے، آسام کی روح کو بچانے کے لیے۔‘‘ دریں اثنا آسام میں جاری انخلائی مہم رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ آسام حکومت اب اوریام گھاٹ میں نئی انخلائی مہم کی تیاری کر رہی ہے، جو ناگالینڈ سے متصل علاقہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read