Bharat Express DD Free Dish

regional politics

تملگا ویٹری کزگم کو 234 رکنی اسمبلی میں 120 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ اکثریت کے لیے 118 نشستیں درکار تھیں۔ حلف لینے کے بعد وجے 1967 کے بعد پہلے ایسے رہنما بن جائیں گے جو ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ بنیں گے۔

تمل ناڈو کانگریس کے انچارج گریش چوڈنکر کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا کہ تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اور کانگریس لیجسلیٹو پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ ٹی وی کے کو حکومت بنانے کے لیے مکمل حمایت فراہم کریں گے۔

اعداد و شمار کے مطابق آل انڈیا این آر کانگریس 9 سیٹوں پر آگے ہے، جبکہ اس کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی 2 سیٹوں پر برتری بنائے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی اے ڈی ایم کے ایک سیٹ پر آگے ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کو محدود کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس، ڈی ایم کے اور اے ڈی ایم کے ایک-ایک سیٹ پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کے اس دور میں افواہیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں، جو بعض اوقات خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ابتدائی رجحانات میں ٹی وی کے نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پہلی ہی انتخابی شرکت میں 105 نشستوں پر برتری حاصل کر لی ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والا اتحاد 76 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ ڈی ایم کے اتحاد 52 نشستوں کے ساتھ تیسرے مقام پر ہے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

ترنمول کانگریس نے اپنے تمام امیدواروں کو نیک خواہشات دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوام کی خدمت کے جذبے کے ساتھ میدان میں اتریں اور عوام کا اعتماد حاصل کریں۔

بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک اہم باب آج ختم ہو گیا۔ دہائیوں تک ڈھاکہ کی سیاست میں اثر و رسوخ رکھنے والی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا آج انتقال کر گئیں۔ انہوں نے آج صبح فجر کی نماز کے بعد آخری سانس لی۔ بھارت میں پیدا ہونے والی ’پُتُل‘ خالدہ ضیا، وزیراعظم بننے کے بعد طویل عرصے تک بھارت کے ساتھ ٹکراؤ کی سیاست کرتی رہیں۔

رواں ماہ بنگلہ دیش میں کسی سیاسی رہنما پر فائرنگ کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل انقلاب منچ کے کنوینر شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے بجوئے نگر علاقے میں قریب سے گولی ماری گئی تھی۔ بعد ازاں انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا، تاہم وہ 18 دسمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل بنگلہ دیش آج شیخ حسینہ کے مقدمے کا فیصلہ سنائے گا۔ ڈھاکہ سمیت ملک بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کو فائرنگ کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔