بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کا ڈھاکہ میں انتقال ہو گیا۔ ایسے وقت میں جب بنگلہ دیش سیاسی عدم استحکام، انتہاپسندی اور تشدد کے دور سے گزر رہا ہے اور 12 فروری کو انتخابات ہونے والے ہیں، 80 سالہ خالدہ ضیا دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر لکھا: ’’خالدہ ضیا کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے فجر کی نماز کے فوراً بعد ہوا۔‘‘ بی این پی کے سکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر اور چیئرپرسن کے پریس ونگ کے عہدیدار شمس الدین دیدار نے بھی انتقال کی تصدیق کی۔
بھارت میں پیدائش، مگر بھارت مخالف سیاست
خالدہ ضیا 15 اگست 1945 کو متحدہ ہندوستان کے بنگال پریزیڈنسی کے جلپائی گڑی میں پیدا ہوئیں۔ پیار سے انہیں ’پُتُل‘ کہا جاتا تھا، مگر بنگلہ دیش میں ان کی سیاست بھارت مخالف بنگالی قوم پرستی پر مبنی رہی۔ ایک موقع پر انہوں نے بنگلہ دیش کے دورے پر آئے بھارت کے اس وقت کے صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا تھا۔ ان کا اصل نام خالدہ خانم پُتُل تھا۔ 1947 کی تقسیم کے بعد خاندان دیناج پور منتقل ہو گیا۔ خالدہ ضیا خود کو خود تعلیم یافتہ کہتی تھیں، اگرچہ انہوں نے دیناج پور مشنری اسکول اور دیناج پور گرلز اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی ہائی اسکول اور گریجویشن کی تعلیم کا باقاعدہ ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔
شادی، فوجی پس منظر اور صدارتی دور
خالدہ کی شادی پاکستانی فوج کے کیپٹن ضیاء الرحمٰن سے ہوئی۔ 1965 کی شادی کے بعد وہ پاکستان چلی گئیں اور نام خالدہ ضیا رکھا۔ 1965 کی بھارت-پاکستان جنگ کے دوران ضیاء الرحمٰن تعینات تھے۔ بعد میں وہ بنگلہ دیش کے صدر بنے اور خالدہ 1977 سے 1981 تک ملک کی فرسٹ لیڈی رہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں طارق رحمان اور عرفات رحمان (عرفات کا 2015 میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا)۔ 30 مئی 1981 کو شوہر کے قتل نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور وہ سیاست میں سرگرم ہو گئیں۔
بی این پی کی قیادت اور جمہوری جدوجہد
2 جنوری 1982 کو خالدہ ضیا بی این پی میں شامل ہوئیں (پارٹی 1978 میں ان کے شوہر نے قائم کی تھی)۔ 10 مئی 1984 کو وہ بی این پی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں اور 30 دسمبر 2025 تک اس منصب پر رہیں۔ انہوں نے جنرل حسین محمد ارشاد کے فوجی اقتدار کے خلاف تحریک کی قیادت کی، 1986 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور متعدد بار نظر بند رہیں۔ 1983 سے 1990 تک وہ سات جماعتی اتحاد کی قیادت کرتی رہیں۔
وزارت عظمیٰ کے تین ادوار
پہلا دور (1991): بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ ابتدائی تعلیم کو مفت اور لازمی قرار دیا۔
دوسرا دور (فروری 1996): مختصر مدت۔
تیسرا دور (اکتوبر 2001 – اکتوبر 2006): چار جماعتی اتحاد کو دو تہائی اکثریت ملی۔
’بیٹل آف بیگمز‘
بنگلہ دیش کی سیاست دہائیوں تک خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ کے ٹکراؤ سے عبارت رہی، جسے “بیٹل آف بیگمز” کہا جاتا ہے۔ یہ دشمنی ذاتی، خاندانی اور نظریاتی اختلافات سے جنمی۔ 2004 میں شیخ حسینہ پر گرینیڈ حملے کے الزامات نے کشیدگی مزید بڑھا دی۔ 2009 کے بعد شیخ حسینہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہیں، جبکہ خالدہ ضیا پر بدعنوانی کے مقدمات قائم ہوئے۔
مقدمات اور قید
خالدہ ضیا کے خلاف 32 سے زائد مقدمات چلے، جن میں گیٹکو، نیکو اور باراپوکریا کیس شامل ہیں۔ 2018 میں انہیں ضیا آرفنیج ٹرسٹ اور چیریٹیبل ٹرسٹ کیسز میں سزائیں سنائی گئیں۔ 2020 میں کووڈ کے باعث ضمانت ملی، اس کے بعد وہ بارہا اسپتال میں داخل رہیں۔
بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات
پاکستانی پس منظر کے باعث بھارت کے ساتھ ان کے تعلقات اکثر کشیدہ رہے۔ انہوں نے 1972 کے بھارت-بنگلہ دیش دوستی معاہدے کو ’’غلامی کا معاہدہ‘‘ اور 1996 کے گنگا آبی معاہدے کو ’’غلامی کا سودا‘‘ قرار دیا۔ چٹاگانگ ہل ٹریکٹس امن معاہدے کی بھی مخالفت کی۔ ان کے ادوار میں بھارت مخالف عناصر کو تقویت ملی، آئی ایس آئی کی سرگرم موجودگی بڑھی اور کچھ شدت پسند گروہوں کو پناہ ملی۔ تیستا آبی تنازع، سرحدی نظم و نسق اور غیر قانونی دراندازی جیسے مسائل پر بھی ان کی حکومت کا رویہ بھارت کے لیے سخت رہا۔ بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے بجائے انہوں نے ’’توازن کی سیاست‘‘ اپنائی۔
بھارت کے دورے
اپنے وزارتی ادوار کے دوران انہوں نے بھارت کا محدود دورہ کیا، جن میں 2006 کا دورہ شامل ہے جب انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کی۔ اکتوبر 2012 میں بطور اپوزیشن لیڈر ان کا بھارت دورہ خاصا اہم سمجھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


