Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Politics

بنگلہ دیش میں تقریباً 35 سال بعد صدر کے عہدے کے لیے براہ راست انتخابی مقابلہ ہوا ہے۔ اس بار کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ ایک سے زیادہ امیدوار صدارتی انتخاب میں میدان میں تھے۔ اس سے قبل پارلیمانی ووٹنگ کے ذریعے صدارتی انتخاب 1991 میں ہوا تھا۔ مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو گزشتہ ہفتے ہی صدارتی انتخاب کے لیے بی این پی کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد نئی دہلی میں پہلی مرتبہ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے عوام اور حامیوں کو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑسکتیں۔ انہوں نے کہا ’’میری قسمت میں جو بھی لکھا ہے، میں اپنے لوگوں کے پاس واپس جاؤں گی۔ میں اپنے پیارے ہم وطنوں کو تکلیف میں چھوڑ کر بیرون ملک نہیں رہ سکتی۔ میری خواہش ہے کہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جاؤں۔‘‘

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس سے متعلق خبر کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ پہلے ہی تصدیق کرچکی ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کوبرکس اجلاس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے، جسے غوروخوض کے لئے وزیراعظم کے دفتربھیج دیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دسمبر تک وطن واپس آ کر خودسپردگی کرنے کے دعوے پر بین الاقوامی جرائم ٹریبونل (ICT) نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ٹریبونل کا کہنا ہے کہ اگر شیخ حسینہ کو ملک واپس لایا گیا تو انہیں سیدھا جیل بھیجا جائے گا، کیونکہ انہیں پہلے ہی سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ جلد بنگلہ دیش واپس آئیں گی۔ ہندوستان میں جلاوطنی کے دوران، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی عوامی لیگ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی حکومت پر معیشت کو بحران میں ڈالنے کا الزام لگایا۔

بنگلہ دیشی صدر شہاب الدین نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران انہیں کسی مشاورتی عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ عبوری حکومت نے آئینی منصب کو نظر انداز کیا اور غیر آئینی طریقے سے عہدے سے ہٹانے کی سازش بھی کی گئی۔

بنگلہ دیش میں حالیہ عام انتخابات میں اقلیتی برادریوں کے چار امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ ان میں چار ہندو بھی شامل ہیں۔ سبھی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدوار ہیں، جو منگل کو حکومت بنانے کے لیے تیار ہے۔

لندن میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد بی این پی لیڈر  طارق رحمان نے انتخابی کامیابی کے ساتھ بنگلہ دیش کی سیاست میں واپسی کی ہے۔ گرنیڈ حملے سے لے کر عمر قید تک کے الزامات اور پھر بریت کے مراحل سے گزرنے والے رحمان اب تنازعات کے سائے میں وزارتِ عظمیٰ کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے گزشتہ سال جولائی میں شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہی لوگ کر رہے تھے جنہوں نے اس سال فروری میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کی۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے بھی سابق وزیر اعظم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے خالدہ ضیا کو قوم کی ’’عظیم سرپرست‘‘ اور بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ کی ایک بلند قامت شخصیت قرار دیا۔