نئی دہلی: بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری حکومت کے دور میں آئینی صدر کے منصب کو نظر انداز کیا گیا اور انہیں کئی اہم معاملات سے بے خبر رکھا گیا۔ بنگلہ دیشی میڈیا ادارے کالیر کنٹھو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر شہاب الدین نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران انہیں کسی مشاورتی عمل میں شامل نہیں کیا گیا، اس کے باوجود ان کے خلاف مختلف سازشیں کی جاتی رہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ملک کے امن و امان کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے اور آئینی خلا پیدا کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں۔ میں اپنے فیصلے پر قائم رہا، اسی لیے ان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکی۔ خاص طور پر غیر آئینی طریقے سے صدر کو ہٹانے کی کئی کوششیں ناکام ہوئیں۔‘‘
سابق چیف جسٹس کو لانے کی مبینہ کوشش
صدر شہاب الدین نے دعویٰ کیا کہ عبوری حکومت نے غیر آئینی طریقے سے ایک سابق چیف جسٹس کو لا کر ان کی جگہ کسی اور کو صدر بنانے کی سازش کی۔ ان کے مطابق حکومت کے ایک مشیر نے ایک جج سے رابطہ کیا اور تقریباً ایک گھنٹے تک ملاقات کی، تاہم جج نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ صدر کے بقول، جج نے کہا کہ موجودہ صدر آئینی طور پر سب سے بالا ہیں اور وہ غیر آئینی طریقے سے اس عہدے پر نہیں بیٹھ سکتے۔ اسی مضبوط موقف کی وجہ سے حکومت کی یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی۔
بیرون ملک دوروں سے متعلق الزامات
صدر شہاب الدین نے الزام عائد کیا کہ عبوری دور میں ہونے والے اہم فیصلوں میں آئین کے تقاضوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ محمد یونس نے اپنے بیرونِ ملک دوروں یا ان دوروں کے دوران ہونے والی بات چیت کے بارے میں انہیں کبھی مطلع نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: ’’وہ 14 سے 15 مرتبہ بیرون ملک گئے ہوں گے، مگر انہوں نے مجھے کبھی آگاہ نہیں کیا۔ وہ کبھی میرے پاس نہیں آئے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان عبوری دور میں ہونے والے ایک معاہدے سے متعلق بھی انہیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
’’مجھے مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا‘‘
صدر شہاب الدین نے مزید الزام لگایا کہ انہیں صرف اس وقت تک استعمال کیا گیا جب تک محمد یونس کو چیف ایڈوائزر مقرر نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد نہ تو یونس نے ان سے ملاقات کی، نہ کوئی خط لکھا اور نہ ہی کسی سرکاری معاملے پر مشاورت کی۔ انہوں نے کہا: ’’یونس نے مجھے مکمل طور پر پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دو بار میرے بیرونِ ملک دورے روک دیے۔ پریس وِنگ کو تقریباً ختم کر دیا گیا۔ یہاں سے کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی جا سکتی تھی۔ حتیٰ کہ اگر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کہیں کامیاب ہوتی تو میں مبارکباد کا پیغام بھی جاری نہیں کر سکتا تھا۔ اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔‘‘ صدر کے ان بیانات کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور عبوری حکومت کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



