PM Modi and Russian President Meeting: برکس اجلاس سے قبل پی ایم مودی اور روسی صدر پوتن کی اہم ملاقات، دوطرفہ تعاون اور عالمی امور پر تبادلہ خیال
دونوں لیڈروں نے دفاع، توانائی، خلائی شعبے، تجارت، صنعتی تعاون اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے سمیت کئی اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ رواں سال مودی اور پوتن کی یہ دوسری بالمشافہ ملاقات ہے۔ اس سے قبل دونوں لیڈر 31 اگست کو بشکیک میں منعقدہ 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے موقع پر ملے تھے۔
PM Modi condoles passing of Norway’s King: ناروے کے شاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال پر وزیر اعظم مودی کا اظہار رنج، شاہی خاندان اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار
وزیراعظم مودی نے رواں سال کے آغاز میں ناروے کے اپنے دورے کے دوران بادشاہ سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے ان کی گرمجوشی اور عوامی خدمت کے لیے ان کی غیر معمولی وابستگی کی تعریف کی۔
Modi Government Foreign Policy: ’’مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کا مطلب سیاست دانوں کو گلے لگانا ہے‘‘ مرکز اور آر ایس ایس پر راہل گاندھی کا سخت حملہ
’’رچناتمک کانگریس نیشنل کنوینشن‘‘ میں راہل گاندھی نے مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا کام دوستی نبھانا نہیں بلکہ ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر بھی سخت تنقید کی ہے۔
US-Iran Relations: امریکہ سے عدم اعتماد کی فضا ختم کرنے کا مطالبہ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا-’’امریکہ اعتماد بحال کرے تو ایران امن کی راہ اختیار کرے گا‘‘
ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘
BRICS Culture Working Group Meeting: برکس کلچر ورکنگ گروپ کا تیسرا اجلاس 5 اور 6 اگست کو بھوپال میں، تخلیقی معیشت، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور پائیدار ترقی سمیت اہم موضوعات پر ہوگا غور
دو روزہ اجلاس میں تین بنیادی موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ ان میں تخلیقی معیشت، ثقافتی و تخلیقی صنعتیں، کاپی رائٹ اور مصنوعی ذہانت (AI)، ثقافتی ورثے کا تحفظ اور ثقافتی املاک کی واپسی، نیز ثقافت، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔
US-Iran Conflict: ’’دشمن کو اپنے دستخط کی پاسداری کرنی ہوگی‘‘ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر امریکہ کو قائم رکھنے کے لیے دباؤ ڈالنا ضروری: صدر مسعود پزشکیان
دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔
Attacks on Commercial Vessels: آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے خلاف بھارت کا سخت احتجاج، وزارت خارجہ نے ایرانی سفارت خانے کے نائب سربراہ کو کیا طلب
حملوں میں ایک بھارتی ملاح ہلاک اور متعدد زخمی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ نے تجارتی جہازوں پر حملے فوری طور پر روکنے اور سفارتی مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور متاثرہ بھارتیوں کی مدد کے لیے سفارتی مشن کو سرگرم کردیا گیا ہے۔
US attacks on Iran: ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت، جماعت اسلامی ہند نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بھارت سے کی سفارتی کردار ادا کرنے اپیل
سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر نئے امریکی حملوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سفارتی عمل اور امن و استحکام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
Trump Issues Fresh Warning: ’’ایران نے جنگ بندی کی یقین دہانی کے باوجود کی وعدہ خلافی، آبنائے ہرمز پر ہوگا امریکہ کا مکمل کنٹرول‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی ایران کو سخت وارننگ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔
India’s Cultural Heritage Shines: نیوزی لینڈ میں بھارتی برادری نے وزیراعظم مودی کا ثقافتی انداز میں کیا استقبال، ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا حسین امتزاج اور ’’وندے ماترم‘‘ کی خوبصورت پیشکش
نیوزی لینڈ پہنچنے سے قبل وزیراعظم مودی نے آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے کامیاب دورے مکمل کیے، جہاں دفاع، توانائی، اہم معدنیات، کھیل، گرین ہائیڈروجن، یورینیم کی فراہمی اور بحرالکاہل خطے میں تعاون سمیت متعدد اہم معاہدوں اور اعلانات پر اتفاق ہوا۔





