Bharat Express DD Free Dish

International Relations

وائٹ ہاؤس کے مطابق میلانیا ٹرمپ اور ان کے نمائندے نے جنگ بندی کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لیے روس اور یوکرین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ براہِ راست کام کیا۔ اس عمل میں جنگ بندی کے وقت، تکنیکی طریقۂ کار اور عملی انتظامات کو شامل کیا گیا۔ میلانیا نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے شہری نمائندے متاثرہ علاقے میں لوگوں کے گھروں کا دورہ کرکے ان کی ضروریات کا جائزہ لیں گے۔

دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی ہندوستانی پارلیمنٹ کررہی ہے۔ اس میں برکس کے 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے پارلیمانی وفود شرکت کررہے ہیں۔ فورم کی افتتاحی تقریب پیر کی صبح 10 بجے شروع ہوئی، جس میں لوک سبھا اسپیکر اور فورم کے چیئرمین اوم برلا نے افتتاحی خطاب کیا۔

روسی ادیب فیودور دوستوئیفسکی کے شہرۂ آفاق ناول ’وائٹ نائٹس‘ پر مبنی ہندی ڈراما ’چاندنی راتیں‘ سینٹ پیٹرزبرگ میں پیش کیا گیا، روسی سامعین نے فن کاروں کی اداکاری کو خوب سراہا۔ سی ایم ڈی اپیندر رائے کی اس پہل نے بین الاقوامی سطح پر ثقافت، ادب اور فنون کے ذریعے مکالمے کو فروغ دینے میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ممکنہ دورہ کینیڈا سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو نئی سمت ملنے کی امید ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر دنیش کے پٹنائک کے مطابق، دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور سکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے پر زور۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا ہندوستان کا دورہ بھی شروع ہونے والا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام سے عوام کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے باہمی رشتوں کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج دستخط کیے گئے مائیگریشن اینڈ موبیلیٹی پارٹنرشپ ایگریمنٹ اور ینگ پروفیشنلز ایگریمنٹ کے ذریعے ہندوستانی طلبہ، محققین، پیشہ ور افراد اور نوجوانوں کے لیے سوئٹزرلینڈ میں کئی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘

وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں وفد کی سطح پر ملاقات کی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سوئس صدر پارمیلن نے کہا کہ ان کا ہندوستان دورہ دونوں ممالک کے درمیان قائم ’’قریبی اور دیرینہ شراکت داری‘‘ کو مزید مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ دورے کے باضابطہ آغاز کے موقع پر راشٹرپتی بھون کے احاطے میں ان کا رسمی استقبال کیا گیا، جہاں صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا خیرمقدم کیا۔ 

واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی کئی ممالک کے مندوبین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے باہر چلے گئے تھے، تاہم متحدہ عرب امارات کا وفد اپنی نشستوں پر موجود رہا۔

دونوں لیڈروں نے دفاع، توانائی، خلائی شعبے، تجارت، صنعتی تعاون اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے سمیت کئی اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ رواں سال مودی اور پوتن کی یہ دوسری بالمشافہ ملاقات ہے۔ اس سے قبل دونوں لیڈر 31 اگست کو بشکیک میں منعقدہ 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے موقع پر ملے تھے۔