Bharat Express DD Free Dish

International Relations

وزیر اعظم نریندر مودی کے ممکنہ دورہ کینیڈا سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو نئی سمت ملنے کی امید ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر دنیش کے پٹنائک کے مطابق، دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور سکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے پر زور۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا ہندوستان کا دورہ بھی شروع ہونے والا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام سے عوام کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے باہمی رشتوں کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج دستخط کیے گئے مائیگریشن اینڈ موبیلیٹی پارٹنرشپ ایگریمنٹ اور ینگ پروفیشنلز ایگریمنٹ کے ذریعے ہندوستانی طلبہ، محققین، پیشہ ور افراد اور نوجوانوں کے لیے سوئٹزرلینڈ میں کئی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘

وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں وفد کی سطح پر ملاقات کی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سوئس صدر پارمیلن نے کہا کہ ان کا ہندوستان دورہ دونوں ممالک کے درمیان قائم ’’قریبی اور دیرینہ شراکت داری‘‘ کو مزید مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ دورے کے باضابطہ آغاز کے موقع پر راشٹرپتی بھون کے احاطے میں ان کا رسمی استقبال کیا گیا، جہاں صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا خیرمقدم کیا۔ 

واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی کئی ممالک کے مندوبین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے باہر چلے گئے تھے، تاہم متحدہ عرب امارات کا وفد اپنی نشستوں پر موجود رہا۔

دونوں لیڈروں نے دفاع، توانائی، خلائی شعبے، تجارت، صنعتی تعاون اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے سمیت کئی اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ رواں سال مودی اور پوتن کی یہ دوسری بالمشافہ ملاقات ہے۔ اس سے قبل دونوں لیڈر 31 اگست کو بشکیک میں منعقدہ 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے موقع پر ملے تھے۔

وزیراعظم مودی نے رواں سال کے آغاز میں ناروے کے اپنے دورے کے دوران بادشاہ سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے ان کی گرمجوشی اور عوامی خدمت کے لیے ان کی غیر معمولی وابستگی کی تعریف کی۔

’’رچناتمک کانگریس نیشنل کنوینشن‘‘ میں راہل گاندھی نے مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا کام دوستی نبھانا نہیں بلکہ ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر بھی سخت تنقید کی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘