Bharat Express DD Free Dish

International Relations

دو روزہ اجلاس میں تین بنیادی موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ ان میں تخلیقی معیشت، ثقافتی و تخلیقی صنعتیں، کاپی رائٹ اور مصنوعی ذہانت (AI)، ثقافتی ورثے کا تحفظ اور ثقافتی املاک کی واپسی، نیز ثقافت، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

حملوں میں ایک بھارتی ملاح ہلاک اور متعدد زخمی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ نے تجارتی جہازوں پر حملے فوری طور پر روکنے اور سفارتی مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور متاثرہ بھارتیوں کی مدد کے لیے سفارتی مشن کو سرگرم کردیا گیا ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر نئے امریکی حملوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سفارتی عمل اور امن و استحکام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت اب ’’بحران کے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکی ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے معاہدے کو تقریباً فوری طور پر سبوتاژ کر دیا اور ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دی گئی ایک ماہ کی مہلت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔

نیوزی لینڈ پہنچنے سے قبل وزیراعظم مودی نے آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے کامیاب دورے مکمل کیے، جہاں دفاع، توانائی، اہم معدنیات، کھیل، گرین ہائیڈروجن، یورینیم کی فراہمی اور بحرالکاہل خطے میں تعاون سمیت متعدد اہم معاہدوں اور اعلانات پر اتفاق ہوا۔ 

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم مودی آکلینڈ میں اپنے ہم منصب کرسٹوفر لکسن کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، عوامی روابط اور دیگر شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ آکلینڈ میں وزیراعظم نریندر مودی کے استقبال کے لیے مشہور اسکائی ٹاور کو خصوصی روشنیوں سے سجایا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور باہمی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

جیسنٹا ایلن نے وزیراعظم نریندر مودی کا میلبورن آنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ انتھونی البانیز کی قیادت نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے ساتھ آسٹریلیا کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔

’میلبورن میٹس مودی‘ تقریب میں بھارتی نژاد افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز اور ریاست وکٹوریہ کی پریمیئر جیسنٹا ایلن بھی موجود تھیں۔ جیسنٹا ایلن نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ بھارت کے عوام اور ان کی اقدار کا بے حد احترام کرتی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط مستقبل میں مزید مستحکم ہوں گے۔